حدیث نمبر: 15566
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَا كَذَبْتُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا كَذِبَةً وَاحِدَةً ، كُنْتُ أَرْحَلُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ مِنَ الطَّائِفِ فَسَأَلَنِي : أَيُّ الرِّحْلَةِ أَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : الطَّائِفِيَّةُ الْمُنْكَبَّةُ ، وَكَانَ يَكْرَهُهَا . فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا قَالَ : " مَنْ رَحَلَ هَذِهِ ؟ " . قَالُوا : رَحَّالُكَ قَالَ : " مُرُوا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ أَنْ يَرْحَلَ " . فَأُعِيدَتْ إِلَيَّ الرِّحْلَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا: ، البتہ ایک مرتبہ کی غلط بیانی کا معاملہ مختلف ہے ، میں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالان تیار کیا کرتا تھا ، طائف سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اُس نے مجھ سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پالان تیار کرنے کا کون سا طریقہ پسند ہے ؟ میں نے جواب دیا : طائفیہ منکبہ ، حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند کرتے تھے ، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ پالان کس نے تیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : آپ کا پالان تیار کرنے والے شخص نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابن ام عبد سے کہو کہ وہ پالان تیار کیا کرے ، تو پالان تیار کرنے کی ذمہ داری مجھے واپس مل گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15566
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (5268) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10366)»