حدیث نمبر: 15568
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ ، وَكَرِهْتُ لِأُمَّتِي مَا كَرِهَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارِ الْكَرَاهَةِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ مُنْقَطِعَ الْإِسْنَادِ . وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں اپنی اُمت کے لئے اُس چیز سے راضی ہوں ، جس چیز سے ابن ام عبد اُن کے لیے راضی ہے ، اور میں اپنی امت کے لئے اُس چیز کو ناپسند کرتا ہوں ، جو چیز ابن ام عبد ان کے لیے ناپسند کرتا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں ناپسندیدہ چیز کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں منقطع سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حمید رازی ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس میں اختلاف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2679) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8458)»