مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - باب: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ ، فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ ، فَقَالَ : " مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ ! فَقَالَ : " قَدْ أَحْسَنْتَ ، أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَبَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَكَانَ يَضَعُ الْحَدِيثَ . ¤سیدنا عبداللہ مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، میں پانی لے کر آپ کے پیچھے گیا ، آپ نے دریافت کیا : تمہیں کس نے اس بات کا حکم دیا ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے اس بارے میں ہدایت نہیں کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اچھا کام کیا ہے ، تم جنت کی خوشخبری قبول کرو ! پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی جنت کی خوشخبری دی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ہے اور وہ حدیث ایجاد کرتا تھا ۔