حدیث نمبر: 15564
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : ذَهَبَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَنَاسٌ مَعَهُ إِلَى كَبَاثٍ ، فَصَعِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَجَرَةً لِيَجْتَنِيَ مِنْهَا ، فَنَظَرُوا إِلَى سَاقَيْهِ فَضَحِكُوا مِنْ حُمُوشَتِهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَضْحَكُونَ ؟ " . قَالُوا : مِنْ حُمُوشَةِ سَاقَيِ ابْنِ مَسْعُودٍ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَاللَّهِ إِنَّهُمَا لَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ " . ثُمَّ ذَهَبَ كُلُّ إِنْسَانٍ فَاجْتَنَى فَحْلًا يَأْكُلُهُ ، وَجَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِجِنَائِهِ قَدْ جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ ، فَوَضْعَهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : ¤ هَذَا جِنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ وَكُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ ¤ فَأَكَلَ مِنْهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوطفیل بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ گئے ، اُن کے ساتھ کچھ لوگ بھی تھے ، یہ لوگ پیلو کے درخت کی طرف گئے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ درخت پر چڑھے تاکہ اُس سے مسواک اتاریں ، یا پھل اتاریں ، لوگوں نے ان کی پنڈلیوں کو دیکھا ، تو ان کی پنڈلیوں کی کمزوری پر وہ ہنس پڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ کس بات پر ہنستے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ابن مسعود کی پنڈلیوں کی کمزوری پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! یہ دونوں میزان میں ، اُحد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی ۔ “ پھر ہر شخص گیا اور وہ پھل چننے لگا اور اسے کھانے لگا ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جو پھل اتارا تھا ، وہ اُسے اپنی جھولی میں رکھ کر آئے ، اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا اور یہ شعر پڑھا : ” یہ میرا چنا ہوا پھل ہے اور اس میں بہتر پھل ہے اور ہر پھل چننے والے کا ہاتھ اس کے اپنے منہ کی طرف ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس پھل میں سے کھایا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15564
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً