❮
❯
حدیث نمبر: 15553
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، وَهُوَ عَلَى ضَعْفِهِ حَسَنُ الْحَدِيثَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فُرَاتِ بْنِ مَحْبُوبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ خوشخبری سنائی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ قرآن کو بالکل اسی طرح پڑھے ، جس طرح وہ نازل ہوا ہے ، تو اُسے ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اسے پڑھنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابوالنجود ہے اور وہ ضعیف ہونے کے باوجود حسن الحدیث ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی کے رجال بھی صحیح کے رجال ہیں ، صرف فرات بن محبوب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2681) اخرجه احمد فى المسند (35) ، أخرجه مسند أحمد برقم: 36، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 2949، 5441، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8414»