حدیث نمبر: 15529
وَعَنْ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : بَدَتْ لَنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَاجَةٌ إِلَى الْوَالِي ، وَكَانَ الَّذِي طَلَبْنَا إِلَيْهِ أَمْرًا صَعْبًا ، فَمَشَيْنَا إِلَيْهِ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ ، فَكَلَّمُوهُ وَذَكَرُوا لَهُ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَا ، فَذَكَرَ لَهُمْ صُعُوبَةَ الْأَمْرِ ، فَعَذَرَهُ الْقَوْمُ ، وَأَلَحَّ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا وَجَدَ بُدًّا مِنْ قَضَاءِ حَاجَتِهِ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، وَإِذَا الْقَوْمُ أَنْدِيَةٌ . قَالَ حَسَّانُ : فَضَحِكْتُ وَأَنَا أَسْمَعُهُمْ ، إِنَّهُ وَاللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا ، إِنَّهَا وَاللَّهِ صَبَابَةُ النُّبُوَّةِ ، وَوِرَاثَةُ أَحْمَدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْدِيهِ أَعْرَاقُهُ ، وَانْتِزَاعُ شِبْهِ طِبَاعِهِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَجْمِلْ يَا حَسَّانُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقُوا ، فَأَحْمَلَ فَأَنْشَأَ حَسَّانُ يَمْدَحُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ : ¤ إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مُجَمَعَةٍ فَضْلَا إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ ¤ بِمُلْتَقِطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا كَفَى وَشَفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ ¤ لِذِي إِرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جَدًّا وَلَا هَزْلَا ¤ سَمَوْتَ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ ¤ فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا دَنِيًّا وَلَا وَغِلَا خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى بَلِيغًا ¤ وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبَلَا فَقَالَ الْوَالِي : وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبَلَ غَيْرِي ، وَاللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حسان بن ثابت بھی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ، ہم کچھ افراد کو حاکم وقت سے کوئی کام پڑ گیا ، وہ ایک ایسا حکمران تھا ، جس نے ہمیں کسی مشکل کا شکار کرنا تھا ، تو ہم قریش سے تعلق رکھنے والے اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر حاکم کے پاس گئے ، ان لوگوں نے حاکم کے ساتھ بات چیت کی ، اور حاکم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی تھی ، حاکم نے ان لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ یہ معاملہ مشکل ہے ، تو ان لوگوں نے حاکم کو معذور قرار دیا ، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسلسل حاکم کے سامنے اصرار کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ اللہ کی قسم ! حاکم کے لئے اس کام کو کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا ، ہم اس کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں لوگوں کی مختلف ٹولیاں بیٹھی ہوئی تھیں ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ہنس پڑا ، میں ان لوگوں کو سن رہا تھا ( وہ کہہ رہے تھے : ) اللہ کی قسم ! وہ ( یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے ، اللہ کی قسم وہ نبوت ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور سیدنا أحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں ، ان کے ساتھ نسبی تعلق اور فطری قربت رکھتے ہیں ، لوگوں نے کہا: اے سیدنا حسان ! آپ بھی کچھ کہیں ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ” جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ ، آپ کے سامنے آئے گا ، تو آپ کو ان کی ہر چیز میں فضیلت نظر آئے گی ، جب وہ بات کریں تو ( مقابل فریق کے لیے ) کہنے کو کچھ نہیں رہنے دیتے ، وہ ایسی مربوط ( گفتگو کرتے ہیں ) کہ آپ کو اس گفتگو میں کوئی چیز اضافی ( یعنی غیر ضروری ) نظر نہیں آئے گی ، دلوں میں جو بھی ( سوچ ، خیال ، فکر یا پریشانی ہو ) وہ اس کے لیے کفایت کر جاتے ہیں اور اس کی شفا کا باعث بن جاتے ہیں ، وہ کسی بھی عقلمند کے لیے ، بات کرنے کے لیے سنجیدگی یا مذاق کا کوئی پہلو نہیں رہنے دیتے ( اے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) آپ کسی مشقت کا شکار ہوئے بغیر ، بلند مرتبے پر فائز ہوئے ہیں ، اور ( بلند مرتبے کی ) کوہان ( یعنی بلند ترین سطح ) تک پہنچے ہیں ، آپ نہ تو کمتر ہیں اور نہ ہی کمزور ( یا کوتاہی والے ) ہیں ، آپ مروت کے حلیف کے طور پر پیدا ہوئے اور آپ کی آواز بلیغ ہے ، اور آپ بزدل یا فاسد پیدا نہیں ہوئے ۔ “

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15529
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3593)»