مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنْ حَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : بَدَتْ لَنَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَاجَةٌ إِلَى الْوَالِي ، وَكَانَ الَّذِي طَلَبْنَا إِلَيْهِ أَمْرًا صَعْبًا ، فَمَشَيْنَا إِلَيْهِ بِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَغَيْرِهِمْ ، فَكَلَّمُوهُ وَذَكَرُوا لَهُ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَا ، فَذَكَرَ لَهُمْ صُعُوبَةَ الْأَمْرِ ، فَعَذَرَهُ الْقَوْمُ ، وَأَلَحَّ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَوَاللَّهِ مَا وَجَدَ بُدًّا مِنْ قَضَاءِ حَاجَتِهِ ، فَخَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ ، وَإِذَا الْقَوْمُ أَنْدِيَةٌ . قَالَ حَسَّانُ : فَضَحِكْتُ وَأَنَا أَسْمَعُهُمْ ، إِنَّهُ وَاللَّهِ كَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا ، إِنَّهَا وَاللَّهِ صَبَابَةُ النُّبُوَّةِ ، وَوِرَاثَةُ أَحْمَدَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَهْدِيهِ أَعْرَاقُهُ ، وَانْتِزَاعُ شِبْهِ طِبَاعِهِ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : أَجْمِلْ يَا حَسَّانُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَدَقُوا ، فَأَحْمَلَ فَأَنْشَأَ حَسَّانُ يَمْدَحُ ابْنَ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ :
إِذَا مَا ابْنُ عَبَّاسٍ بَدَا لَكَ وَجْهُهُ رَأَيْتَ لَهُ فِي كُلِّ مُجَمَعَةٍ فَضْلَا إِذَا قَالَ لَمْ يَتْرُكْ مَقَالًا لِقَائِلٍ
بِمُلْتَقِطَاتٍ لَا تَرَى بَيْنَهَا فَضْلَا كَفَى وَشَفَى مَا فِي النُّفُوسِ فَلَمْ يَدَعْ
لِذِي إِرْبَةٍ فِي الْقَوْلِ جَدًّا وَلَا هَزْلَا
سَمَوْتَ إِلَى الْعُلْيَا بِغَيْرِ مَشَقَّةٍ
فَنِلْتَ ذُرَاهَا لَا دَنِيًّا وَلَا وَغِلَا خُلِقْتَ حَلِيفًا لِلْمُرُوءَةِ وَالنَّدَى بَلِيغًا
وَلَمْ تُخْلَقْ كَهَامًا وَلَا خَبَلَا فَقَالَ الْوَالِي : وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِالْكَهَامِ الْخَبَلَ غَيْرِي ، وَاللَّهُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ .
سیدنا حسان بن ثابت بھی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ، ہم کچھ افراد کو حاکم وقت سے کوئی کام پڑ گیا ، ہم اس سے جو چیز طلب کر رہے تھے ، وہ ایک مشکل کام تھا ، تو ہم قریش سے تعلق رکھنے والے اور دیگر اقوام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر حاکم کے پاس گئے ، ان لوگوں نے حاکم کے ساتھ بات چیت کی ، اور حاکم کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی تھی ، حاکم نے ان لوگوں کے سامنے یہ بات ذکر کی کہ یہ معاملہ مشکل ہے ، تو ان لوگوں نے حاکم کو معذور قرار دیا ، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسلسل حاکم کے سامنے اصرار کرتے رہے ، یہاں تک کہ یہ صورتحال ہوئی کہ اللہ کی قسم ! حاکم کے لئے اس کام کو کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہا ، ہم اس کے پاس سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے ، وہاں لوگوں کی مختلف ٹولیاں بیٹھی ہوئی تھیں ، سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ہنس پڑا ، میں ان لوگوں کو سن رہا تھا ( وہ کہہ رہے تھے : ) اللہ کی قسم ! وہ ( یعنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے ، اللہ کی قسم وہ نبوت ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے باقی رہ جانے والے فرد ہیں اور سیدنا أحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں ، ان کے ساتھ نسبی تعلق اور فطری قربت رکھتے ہیں ، لوگوں نے کہا: اے سیدنا حسان ! آپ بھی کچھ کہیں ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ لوگ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تعریف کرتے ہوئے یہ اشعار کہے : ” جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا چہرہ ، آپ کے سامنے آئے گا ، تو آپ کو ان کی ہر چیز میں فضیلت نظر آئے گی ، جب وہ بات کریں تو ( مقابل فریق کے لیے ) کہنے کو کچھ نہیں رہنے دیتے ، وہ ایسی مربوط ( گفتگو کرتے ہیں ) کہ آپ کو اس گفتگو میں کوئی چیز اضافی ( یعنی غیر ضروری ) نظر نہیں آئے گی ، دلوں میں جو بھی ( سوچ ، خیال ، فکر یا پریشانی ہو ) وہ اس کے لیے کفایت کر جاتے ہیں اور اس کی شفا کا باعث بن جاتے ہیں ، وہ کسی بھی عقلمند کے لیے ، بات کرنے کے لیے سنجیدگی یا مذاق کا کوئی پہلو نہیں رہنے دیتے ( اے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ) آپ کسی مشقت کا شکار ہوئے بغیر ، بلند مرتبے پر فائز ہوئے ہیں ، اور ( بلند مرتبے کی ) کوہان ( یعنی بلند ترین سطح ) تک پہنچے ہیں ، آپ نہ تو کمتر ہیں اور نہ ہی کمزور ( یا کوتاہی والے ) ہیں ، آپ مروت کے حلیف کے طور پر پیدا ہوئے اور آپ کی آواز بلیغ ہے ، اور آپ بزدل یا فاسد پیدا نہیں ہوئے ۔ “ تو حاکم نے کہا: اللہ کی قسم ! بزدل اور فاسد سے ان کی مراد میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے درمیان ( فیصلہ کرنے والا ) ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔