مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : شَتَمَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّكَ لَتَشْتُمُنِي وَأَنَا فِيَّ ثَلَاثُ خِصَالٍ : إِنِّي لَآتِي عَلَى الْآيَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَوَدِدْتُ أَنَّ جَمِيعَ النَّاسِ يَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْحَاكِمِ مِنْ حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ يَعْدِلُ فِي حُكْمِهِ فَأَفْرَحُ ، وَلَعَلِّي لَا أُقَاضَى إِلَيْهِ أَبَدًا ، وَإِنِّي لَأَسْمَعُ بِالْغَيْثِ قَدْ أَصَابَ الْبَلَدَ مِنْ بِلَادِ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَفْرَحُ وَمَا لِي بِهِ سَائِمَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن بریدہ اسلمی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو برا کہا: ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم مجھے برا کہہ رہے ہو ؟ جبکہ میرے اندر تین خصوصیات ہیں ، میں اللہ کی کتاب کی کوئی ایک آیت پڑھتا ہوں ، تو میری یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب لوگوں کو اس کے بارے میں وہی علم ہو ، جو علم مجھے ہے ، اور میں مسلمان حکمرانوں میں سے کسی حاکم کے بارے میں سنتا ہوں کہ اس نے فیصلہ دیتے ہوئے عدل سے کام لیا ہے ، تو میں اس بات پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ میں نے شاید کبھی بھی کسی عدالتی فیصلے کے بارے میں اسے نہیں کہا: ہو گا ، اور جب میں کسی بادل کے بارے میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے کسی علاقے میں وہ برسا ہے ، تو میں اس پر خوش ہوتا ہوں ، حالانکہ مجھے اس کے بدلے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔