مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : أَتَذْكُرُ حِينَ اسْتَقْبَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ جَاءَ مَنْ سَفَرٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَحَمَلَنِي أَنَا وَغُلَامًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ وَتَرَكَكَ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، وَهَذَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو یاد ہے ؟ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے تشریف لائے تھے ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے لڑکے کو اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا ۔
میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے اور اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا واقعہ ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔