مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الْهُذَلِيِّ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى الْحَسَنِ ، فَقُلْتُ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْقُرْآنِ بِمَنْزِلَةٍ . قَالَ : كَانَ عُمَرُ يَقُولُ : ذَاكُمْ فَتَى الْكُهُولِ ، إِنَّ لَهُ لِسَانًا سَئُولًا ، وَقَلْبًا عَقُولًا ، كَانَ يَقُومُ عَلَى مِنْبَرِنَا هَذَا - أَحْسَبُهُ قَالَ : عَشِيَّةَ عَرَفَةَ - فَيَقْرَأُ ( سُورَةَ الْبَقَرَةِ ) وَ سُورَةَ ( آلَ عِمْرَانَ ) ثُمَّ يُفَسِّرُهُمَا آيَةً آيَةً ، وَكَانَ مَثَجَّةً نَجْدًا غَرْبًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ضَعِيفٌ . ¤بکر ہذلی بیان کرتے ہیں : میں حسن کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو قرآن کے حوالے سے ایک نمایاں حیثیت حاصل ہے ، تو انہوں نے بتایا : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ فرمایا کرتے تھے : یہ نوجوان عمر رسیدہ افراد کی مانند ہے ، اس کے پاس ایسی زبان ہے جو سوال کرنے والی ہے ، اور ایسا دل ہے جو سمجھ بوجھ رکھنے والا ہے ، یہ عرفہ کی شام ہمارے اس منبر پر کھڑا ہوتا ، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت کرتا اور پھر ایک ایک آیت کی تفسیر بیان کرتا چلا جاتا ، وہ ( علم کا ) چھلکتا ہوا ، بھرا ہوا ڈول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ابوبکر ہذلی نامی راوی ضعیف ہے ۔