حدیث نمبر: 15522
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : جَالَسْتُ سَبْعِينَ أَوْ ثَمَانِينَ شَيْخًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا أَحَدٌ مِنْهُمْ خَالَفَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَيَلْتَقِيَانِ إِلَّا قَالَ : الْقَوْلُ كَمَا قُلْتَ ، أَوْ قَالَ : صَدَقْتَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالملک بن میسرہ نے طاؤس کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں 70 ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میں 80 بزرگ صحابہ کرام کے پاس بیٹھا ہوں ، ان میں سے کوئی ایک بھی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے برخلاف رائے نہیں دیتا تھا ، جب وہ دونوں ملتے تھے تو وہ دوسرے صاحب یہی کہتے تھے : قول وہی ہے جو آپ نے کہا: ہے ، یا وہ یہ کہتے تھے : آپ نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15522
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10593)»