مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ هِرَقْلَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ ، وَقَالَ : إِنْ كَانَ بَقِيَ فِيهِمْ مِنَ النُّبُوَّةِ فَيُجِيبُونِي عَمَّا أَسْأَلُهُمْ عَنْهُ ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَجَرَّةِ ، وَعَنِ الْقَوْسِ ، وَعَنِ الْبُقْعَةِ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً وَاحِدَةً . ¤ قَالَ : فَلَمَّا أَتَى مُعَاوِيَةَ الْكِتَابُ وَالرَّسُولُ قَالَ : إِنَّ هَذَا شَيْءٌ مَا كُنْتُ أُرَاهُ أُسْأَلُ عَنْهُ إِلَى يَوْمِي هَذَا ، فَطَوَى مُعَاوِيَةُ الْكِتَابَ - كِتَابَ هِرَقْلَ - فَبَعَثَ بِهِ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : إِنَّ الْقَوْسَ أَمَانٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنَ الْغَرَقِ ، وَالْمَجَرَّةَ بَابُ السَّمَاءِ الَّذِي تَنْشَقُّ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْبُقْعَةُ الَّتِي لَمْ تُصِبْهَا الشَّمْسُ إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ : فَالْبَحْرُ الَّذِي أُفْرِجَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہرقل نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور یہ کہا: اگر ان لوگوں کے درمیان نبوت میں کوئی باقی ہوا ، تو وہ مجھے اس چیز کے بارے میں جواب دیں گے ، جس کے بارے میں ، میں نے اُن سے سوال کیا ہے ، ہرقل نے انھیں خط لکھ کر اُن سے مجرہ ( شاید کہکشاں مراد ہے ) ، قوس اور زمین کے اس خطے کے بارے میں دریافت کیا ، جسے صرف ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ مکتوب اور قاصد ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ایک ایسی چیز ہے جس کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں تھا کہ مجھ سے اس بارے میں بھی دریافت کیا جائے گا ، پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہرقل کا مکتوب لپیٹا اور وہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھجوا دیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جوابی خط میں لکھا : ” قوس اہل زمین کے لیے ڈوبنے سے امان ہے ، اور مجرہ آسمان کا دروازہ ہے جس کو کھولا جاتا ہے ، جہاں تک زمین کے اس حصے کا تعلق ہے جسے دن کی ایک گھڑی کے لئے دھوپ لگی تھی ، تو وہ دریا کا وہ حصہ ہے ، جس کو بنی اسرائیل کے لئے کشادہ کیا گیا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔