مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ لِرَجُلٍ : هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمْ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنَّهُمْ كَثِيرٌ ، فَقَالَ : الْعَجَبُ وَاللَّهِ لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ! أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مَنْ تَرَى مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَرَكِبْتُ ذَلِكَ ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ ، وَتَتَبُّعِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ كُنْتُ لَآتِي الرَّجُلَ فِي الْحَدِيثِ يَبْلُغُنِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجِدُهُ قَائِلًا ، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِ دَارِهِ تَسْقِي الرِّيَاحُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى يَخْرُجَ إِلَيَّ ، فَإِذَا رَآنِي قَالَ : يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا لَكَ ؟ . قُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ ، فَيَقُولُ : هَلَّا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيكَ ، فَأَقُولُ : أَنَا كُنْتُ أَحَقَّ أَنْ آتِيَكَ ، وَكَانَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَرَانِي ، فَذَهَبَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ إِلَيَّ ، فَيَقُولُ : أَنْتَ كُنْتَ أَعْلَمَ مِنِّي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ، تو میں نے ایک شخص سے کہا: آؤ ! تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے علم حاصل کریں ، اُن سے سوالات کریں کیونکہ اس وقت ان کی تعداد کافی زیادہ ہے ، تو اُس شخص نے کہا: اے ابن عباس ! اللہ کی قسم ! تم پر حیرانگی ہوتی ہے ، کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ لوگوں کو تم سے رجوع کرنے کی ضرورت پیش آئے گی ؟ جبکہ لوگوں کے درمیان تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول کے اصحاب موجود ہیں ۔ پھر میں سوار ہو کر گیا اور سوالات کرنے لگا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے پیچھے جانے لگا ، بعض اوقات میں کسی حدیث کے سلسلے میں کسی صحابی کے پیچھے جاتا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلتا تھا کہ انہوں نے وہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ہے ، تو میں انہیں پاتا تھا کہ وہ آرام کر رہے ہوتے تھے ، میں اُن کے گھر کے دروازے پر چادر کا تکیہ بنا کر موجود رہتا تھا ، ہوا میرے اوپر گرد و غبار ڈال دیتی تھی ، یہاں تک کہ وہ صاحب خود نکل کر باہر آتے اور جب مجھے دیکھتے تو یہ کہتے : اے اللہ کے رسول کے چچا زاد ! آپ کو کیا کام ہے ؟ میں جواب دیتا : ایک حدیث کے بارے میں پتہ کرنا تھا ، جس کے بارے میں مجھے یہ پتا چلا تھا کہ آپ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کرتے ہیں ، تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ حدیث میں خود آپ سے سن لوں ، تو وہ صاحب کہتے : آپ نے مجھے پیغام کیوں نہیں بھیجا ؟ میں آپ کے پاس خود آ جاتا ، تو میں ان صاحب کو جواب دیتا : میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ میں آپ کے پاس آتا ، پھر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رخصت ہو گئے اور لوگوں کو میری ضرورت پیش آئی تو میرے اُس ساتھی نے مجھے ایسی حالت میں دیکھا ، تو وہ یہ بولا: تم مجھ سے زیادہ علم رکھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔