حدیث نمبر: 15520
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ الْعَبَّاسُ بِعَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ ، فَوَجَدَ عِنْدَهُ رَجُلًا فَرَجَعَ وَلَمْ يُكَلِّمْهُ ، فَقَالَ : " رَأَيْتَهُ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ ، أَمَا إِنَّهُ لَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَذْهَبَ بَصَرُهُ ، وَيُؤْتَى عِلْمًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو موجود پایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات کئے بغیر واپس چلے گئے ، بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھا اور یہ ( یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ) اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اس کی بینائی رخصت نہیں ہو جاتی ، اور اسے علم دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15520
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح