مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا جَاءَ فِي عِلْمِهِ ، وَمَا سُئِلَ عَنْهُ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے علم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ ، وَهُوَ يُنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيَّ ، وَهُوَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَأَنَا لَا أَعْلَمُ ، فَلَمْ أُسَلِّمْ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ : يَا مُحَمَّدُ ، مَنْ هَذَا ؟ قَالَ : " هَذَا ابْنُ عَمِّي ، هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ " . قَالَ : مَا أَشَدَّ وَضْحَ ثِيَابِهِ ، أَمَا إِنَّ ذُرِّيَّتُهُ سَتُسَوِّدُ بَعْدَهُ ، لَوْ سَلَّمَ عَلَيْنَا رَدَدْنَا عَلَيْهِ . فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُسَلِّمَ ؟ " . قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي رَأَيْتُكَ تَنَاجِي دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَنْقَطِعَ عَلَيْكُمَا مُنَاجَاتُكُمَا . قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ سَيَذْهَبُ بَصَرُكَ ، وَيُرَدُّ عَلَيْكَ فِي مَوْتِكَ " . ¤ قَالَ عِكْرِمَةُ : فَلَمَّا قُبِضَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، وَوُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ ، جَاءَ طَائِرٌ شَدِيدُ الْوَهَجِ ، فَدَخَلَ فِي أَكْفَانِهِ ، فَأَرَادُوا نَشْرَ أَكْفَانَهُ ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : مَا تَصْنَعُونَ ؟ هَذِهِ بُشْرَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّتِي قَالَ لَهُ ، فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ ، تُلُقِّيَ بِكَلِمَةٍ سَمِعَهَا مَنْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ : ( يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا ، میرے جسم پر سفید لباس تھا ، اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، وہ دراصل سیدنا جبرائیل علیہ السلام تھے ، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا ، میں نے سلام نہیں کیا ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے دریافت کیا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا : یہ میرا چچا زاد ہے ، یہ ابن عباس ہے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: اس نے کتنے سفید کپڑے پہنے ہوئے ہیں ، لیکن اس کے بعد اس کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی ، اگر یہ ہمیں سلام کرتا ، تو ہم نے اسے جواب دینا تھا ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابن عباس ! تم نے سلام کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میں نے دیکھا کہ آپ سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سرگوشی میں بات چیت کر رہے ہیں ، تو مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں آپ کی بات چیت میں دخل دوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اُسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری بینائی رخصت ہو جائے گی اور پھر تمہارے مرنے پر ، وہ تمہیں لوٹائی جائے گی ۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا اور ان کی میت تختے پر رکھی ہوئی تھی ، تو ایک انتہائی سفید رنگ کا پرندہ آیا اور ان کے کفن میں داخل ہو گیا ۔ لوگوں نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا کفن کھول دیں ، تو عکرمہ نے کہا: تم لوگ کیا کرنے لگے ہو ؟ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ خوشخبری ہے ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ارشاد فرمائی تھی ، جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی میت کو لحد میں رکھا گیا ، تو اسی دوران قبر کے کنارے پر موجود افراد نے کسی کو یہ پڑھتے ہوئے سنا : ” اسے مطمئن جان ! تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ ، راضی رہتے ہوئے اور پسندیدہ ہوتے ہوئے ، تم میرے بندوں میں داخل ہو جاؤ اور تم میری جنت میں داخل ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔