مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ مَجْلِسٌ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَقُومُ عَنْهُ إِلَّا لِلْعَبَّاسِ ، فَكَانَ يُسِرُّ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ الْعَبَّاسُ يَوْمًا فَزَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ عَنْ مَجْلِسِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَمُّكَ قَدْ أَقْبَلَ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَقْبَلُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُبْتَسِمًا ، فَقَالَ : " هَذَا الْعَبَّاسُ قَدْ أَقْبَلَ وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بِيضٌ ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا " . ¤ فَلَمَّا جَاءَ الْعَبَّاسُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْتَ لِأَبِي بَكْرٍ ؟ فَقَالَ : " مَا قُلْتُ إِلَّا خَيْرًا " . قَالَ : صَدَقْتَ بِأَبِي وَأُمِّي ، وَلَا تَقُولُ إِلَّا خَيْرًا قَالَ : " قُلْتُ : قَدْ أَقْبَلَ الْعَبَّاسُ عَمِّي وَعَلَيْهِ ثِيَابٌ بَيَاضٌ ، وَسَيَلْبَسُ وَلَدُهُ مِنْ بَعْدِهِ السَّوَادَ ، وَيَمْلِكُ مِنْهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جب بیٹھے ہوئے ہوتے تھے تو آپ کے پاس سے اُٹھتے نہیں تھے ، البتہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند تھی ، ایک دن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آ رہے تھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے لیے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے چچا تشریف لا رہے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا ، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا ہے ، حالانکہ ان کے بعد ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی اور ان لوگوں میں سے بارہ افراد بادشاہ بنیں گے ۔ “ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ابوبکر سے کچھ کہا: ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے صرف بھلائی کی بات کہی ہے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، آپ صرف بھلائی کی بات کہتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ کہا: تھا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں ، جو میرے چچا ہیں انہوں نے سفید لباس پہنا ہوا ہے ، اور ان کے بعد عنقریب ان کی اولاد سیاہ لباس پہنے گی اور ان میں سے بارہ افراد بادشاہ بنیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔