مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " لَا تَرْمِ مَنْزِلَكَ وَبُنُوكَ غَدًا حَتَّى آتِيَكُمْ ; فَإِنَّ لِي فِيكُمْ حَاجَةً " . فَانْتَظَرُوهُ حَتَّى بَعْدَمَا أَضْحَى ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ " . قَالُوا : عَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ . قَالَ : " كَيْفَ أَصْبَحْتُمْ ؟ " . قَالُوا : بِخَيْرٍ ، نَحْمَدُ اللَّهَ . قَالَ : " تُقَارَبُوا بِزَحْفِ بَعْضِكُمْ إِلَى بَعْضٍ " . حَتَّى إِذَا أَمْكَنُوهُ اشْتَمَلَ عَلَيْهِمْ بِمُلَاءَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا رَبِّ ، هَذَا عَمِّي وَصِنْوُ أَبِي وَهَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي ، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَسِتْرِي إِيَّاهُمْ بِمُلَاءَتِي هَذِهِ " . فَأَمَّنَتْ أُسْكُفَّةُ الْبَابِ وَحَوَائِطُ الْبَيْتِ ، فَقَالَتْ : آمِينَ ، آمِينَ ، آمِينَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ فِي الْأَدَبِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” کل آپ نے اور آپ کے صاحبزادوں نے گھر سے باہر نہیں جانا ، جب تک میں آپ لوگوں کے پاس نہیں آ جاتا ، کیونکہ مجھے آپ لوگوں سے ایک کام ہے ، اگلے دن وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرتے رہے ، یہاں تک کہ دن چڑھ جانے کے بعد ، نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : السلام علیکم ! انہوں نے جواب دیا : وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : آپ لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کہ ٹھیک ہے ، ہم اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ لوگ ایک دوسرے کے قریب آ کر مل جائیں ، جب ان لوگوں نے ایسا کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر ان پر ڈالی اور پھر یہ فرمایا : ” اے میرے پروردگار ! یہ میرے چچا ہیں اور یہ میرے والد کی جگہ ہیں اور یہ میرے اہل بیت ہیں ، تو انہیں جہنم سے اُس طرح ڈھانپ کے رکھنا ( یعنی بچا کے رکھنا ) جس طرح میں نے ان لوگوں کو اپنی اس چادر کے ذریعے ڈھانپ کے رکھا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو دروازے کی چوکھٹ نے اور گھر کی دیواروں نے اس پر آمین کہتے ہوئے آمین آمین امین کہا: ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے کتاب الادب میں اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔