مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَبَّاسِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَنْ جُمِعَ مَعَهُ مِنْ وَلَدِهِ باب: نبی اکرم ﷺ کے چچا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمراہ ان کی اولاد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْغَسِيلِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ بِالْعَبَّاسِ وَقَالَ : " يَا عَمِّ ، اتْبَعْنِي بِبَنِيكَ " . فَانْطَلَقَ بِسِتَّةٍ مِنْ بَنِيهِ : الْفَضْلُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَقُثَمُ ، وَمَعْبَدٌ ، فَأَدْخَلَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْتًا وَغَطَّاهُمْ بِشَمْلَةٍ لَهُ سَوْدَاءَ مُخَطَّطَةٍ بِحُمْرَةٍ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي وَعِتْرَتِي ، فَاسْتُرْهُمْ مِنَ النَّارِ كَمَا سَتَرْتُهُمْ بِهَذِهِ الشَّمْلَةِ " . ¤ قَالَ : فَمَا بَقِيَ فِي الْبَيْتِ مُدَرٌ وَلَا بَابٌ إِلَّا أَمَّنَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن غسیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، آپ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو آپ نے ارشاد فرمایا : چچا جان ! آپ اپنے بیٹوں کو لے کر میرے پاس آئیں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے چھ بیٹوں کو ساتھ لائے ، سیدنا فضل رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ، سیدنا قثم رضی اللہ عنہ اور سیدنا معبد رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو گھر لے گئے ، آپ نے اپنی سرخ کڑھائی والی سیاہ چادر کے ذریعے انہیں ڈھانپ لیا اور یہ دعا کی : ” اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور میری عترت ہیں ، تو انہیں جہنم سے اُس طرح ڈھانپ لے ( یعنی بچا لے ) جس طرح میں نے انہیں اس چادر کے ذریعے ڈھانپا ہے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : گھر میں جو بھی اینٹ اور دروازہ موجود تھا انہوں نے اس پر آمین کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔