حدیث نمبر: 15461
وَعَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ حَلِيفِ بَنِي زُهْرَةَ ، أَنَّ أَبَا جَهْلٍ اعْتَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّفَا فَآذَاهُ ، وَكَانَ حَمْزَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - صَاحِبَ قَنْصٍ وَصَيْدٍ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ فِي قَنْصِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ - وَكَانَتْ قَدْ رَأَتْ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَا أَبَا عِمَارَةَ ، لَوْ رَأَيْتَ مَا صَنَعَ - تَعْنِي أَبَا جَهْلٍ - بِابْنِ أَخِيكَ ! فَغَضِبَ حَمْزَةُ ، وَمَضَى كَمَا هُوَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَهُ ، وَهُوَ مُعَلِّقٌ قَوْسَهُ فِي عُنُقِهِ حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدَ أَبَا جَهْلٍ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قُرَيْشٍ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُ حَتَّى عَلَا رَأْسَهُ بِقَوْسِهِ فَشَجَّهُ ، فَقَامَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى حَمْزَةَ يُمْسِكُونَهُ عَنْهُ ، فَقَالَ حَمْزَةُ : دِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، فَوَاللَّهِ لَا أَنْثَنِي عَنْ ذَلِكَ ، فَامْنَعُونِي مِنْ ذَلِكَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ . ¤ فَلَمَّا أَسْلَمَ حَمْزَةُ عَزَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ ، وَثَبَتَ لَهُمْ بَعْضُ أَمْرِهِمْ ، وَهَابَتْ قُرَيْشٌ ، وَعَلِمُوا أَنَّ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - سَيَمْنَعُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یعقوب بن عتبہ بن مغیرہ بن اخنس بن شریق ، جو بنو زہرہ کے حلیف ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ صفا پہاڑ کے پاس ابوجہل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا ، اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچائی ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ شکار کرنے کے لئے جایا کرتے تھے وہ اُس دن شکار کرنے گئے ہوئے تھے ، جب وہ واپس آئے تو ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوجہل کے سلوک کو دیکھ چکی تھی ، اُس نے کہا: اے ابوعمارہ ! اگر آپ اس کو دیکھتے کہ اس نے آپ کے بھتیجے کے ساتھ کیا کیا ہے ؟ اس خاتون کی مراد ابوجہل تھا ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، وہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے واپس چلے گئے ، انہوں نے اپنی گردن میں کمان لٹکائی ہوئی تھی ، وہ مسجد میں داخل ہوئے ، انہوں نے ابوجہل کو ایک محفل میں بیٹھے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اس کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ، یہاں تک کہ اس کے سر پر کمان مار کر اسے زخمی کر دیا ، قریش کے کچھ نوجوان اُٹھ کر سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ انہیں روکیں ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا بھی وہی دین ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا دین ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا رسول ہے ، اللہ کی قسم ! اب میں اس بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ، اگر تم لوگ سچے ہو تو مجھے اس سے روک کے دکھاؤ ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ، تو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مضبوطی کا احساس ہوا اور ان کے بعض معاملات اُن کے لئے پختہ ہو گئے اور قریش خوف زدہ ہو گئے ، اور انہیں یہ بات پتہ چل گئی کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اُن کو روک دیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15461
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل،