حدیث نمبر: 15460
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ : كَانَ إِسْلَامُ حَمْزَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَمِيَّةً [وَكَانَ رَجُلًا رَامِيًا ] ، وَكَانَ يَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ فَيَصْطَادُ ، فَإِذَا رَجَعَ مَرَّ بِمَجْلِسِ قُرَيْشٍ ، وَكَانُوا يَجْلِسُونَ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَيَمُرُّ بِهِمْ فَيَقُولُ : رَمَيْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَصَنَعْتُ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى مَنْزِلِهِ . فَأَقْبَلَ مِنْ رَمْيِهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَقِيَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا عُمَارَةَ ، مَاذَا لَقِيَ ابْنُ أَخِيكَ مِنْ أَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ ، شَتَمَهُ ، وَتَنَاوَلَهُ ، وَفَعَلَ [ بِهِ] وَفَعَلَ ، فَقَالَ : هَلْ رَآهُ أَحَدٌ ؟ قَالَتْ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ رَآهُ نَاسٌ ، فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى ذَلِكَ الْمَجْلِسِ عِنْدَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ وَأَبُو جَهْلٍ فِيهِمْ ، فَاتَّكَأَ عَلَى قَوْسِهِ ، وَقَالَ : رَمَيْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ جَمَعَ يَدَيْهِ بِالْقَوْسِ ، فَضَرَبَ بِهَا بَيْنَ أُذُنَيْ أَبِي جَهْلٍ فَدَقَّ سَنَتَهَا ، ثُمَّ قَالَ : خُذْهَا بِالْقَوْسِ ، وَأُخْرَى بِالسَّيْفِ ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَّهُ جَاءَ بِالْحَقِّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ . ¤ قَالُوا : يَا أَبَا عِمَارَةَ ، إِنَّهُ سَبَّ آلِهَتَنَا ، وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ وَأَنْتَ أَفْضَلُ مِنْهُ مَا أَقْرَرْنَاكَ وَذَاكَ ، وَمَا كُنْتَ يَا أَبَا عِمَارَةَ فَاحِشًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں : سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے ، حمیت کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا ، وہ ایک تیر انداز شخص تھے ، وہ حرم کی حدود سے باہر شکار کرنے کے لئے چلے گئے ، جب وہ واپس آئے تو وہ قریش کی ایک محفل کے پاس سے گزرتے ، وہ لوگ صفا اور مروہ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوتے تھے ، جب سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرتے تو انہیں یہ بتاتے : میں نے اتنے اتنے تیر مارے اور میں نے اتنے اتنے جانوروں کو گرا دیا ، پھر وہ اپنے گھر واپس چلے جاتے ، اسی طرح وہ ایک دن تیر اندازی کر کے واپس آئے ، تو ایک خاتون کی ان سے ملاقات ہوئی ، تو اس خاتون نے کہا: اے ابوعمارہ ! ابوجہل بن ہشام کی طرف سے آپ کے بھتیجے کو کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ؟ ابوجہل نے انہیں برا کہا: ہے اور ان کی گستاخی کی ہے اور ان کے ساتھ یہ کیا ہے اور وہ کیا ہے ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا کسی نے اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! کئی لوگوں نے اس کو دیکھا ہے ، تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چلتے ہوئے صفا اور مروہ کے پاس اُن لوگوں کی محفل میں آئے ، وہاں وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے درمیان ابوجہل بھی بیٹھا ہوا تھا ، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی کمان کے ساتھ ٹیک لگائی اور بتایا : میں نے اتنے اتنے تیر مارے اور یہ یہ کیا ، پھر انہوں نے دونوں ہاتھوں کے ساتھ کمان پکڑی اور اس کے ذریعے ابوجہل کے دونوں کانوں کے درمیان ضرب لگائی ، اور اس کے دانت توڑ دیئے ، پھر انہوں نے کہا: کمان کے ذریعے یہ ضرب سنبھالو ، اور دوسری ( ضرب ) تلوار کے ذریعے ہو گی ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئیں گے ، ان لوگوں نے کہا: اے ابوعمارہ ! وہ ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں اور جہاں تک آپ کی بات ہے تو آپ اُن سے زیادہ نمایاں حیثیت کے مالک ہیں ، ہم آپ کو ایسا نہیں کرنے دیں گے ، اور اے ابوعمارہ ! آپ تو بدزبانی کرنے والے نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15460
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل