حدیث نمبر: 15404
وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ائْتُونِي بِوَضُوءٍ " . قَالَتْ : فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ ، فَبَدَرْتُهَا فَأَخَذْتُهُ أَنَا ، فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ إِلَيَّ عَيْنَهُ أَوْ بَصَرَهُ قَالَ : " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ " . ¤ قَالَتْ : فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ، فَقَالَ : مَا أَنَا فَعَلْتُهُ إِنَّمَا قِيلَ لِي . ¤ قَالَتْ : وَكَانَ يَسْأَلُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ : مَنْ خَيْرُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : " أَفْقَهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ " . وَذَكَرَ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ فَلَمْ أَحْفَظْهُمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے آپ نے فرمایا : میرے پاس وضو کا پانی لے کے آؤ ، سیدہ درہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں اور عائشہ برتن کی طرف لپکیں اور میں ان سے پہلے برتن تک پہنچ گئی ، میں نے اسے لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، آپ نے اپنی نگاہ اٹھا کے میری طرف دیکھا اور فرمایا : ” تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔ “ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : پھر ایک شخص کو لایا گیا تو اس نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا ، مجھے یہ بات کہی گئی تھی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر موجود رہنے کے دوران آپ سے سوال کیا تھا ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور رشتے داری کے حقوق کا سب سے زیادہ خیال رکھتا ہو ۔ “ اس کے بعد شریک نامی راوی نے دو اور چیزیں بھی ذکر کی تھیں جو مجھے یاد نہیں رہی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24) اخرجه احمد فى المسند 431/6)»