مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَنَاقِبِ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب کے مناقب کا بیان
وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنٍ قَالَ : كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ ، وَالْوَلِيدَ ، وَأَبَا مُسْلِمٍ ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي ؟ ! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَتْ : قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى " . فَصَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظَّهْرَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلْكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ ؟ " . فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : أَغْضَبَ اللَّهَ مَنْ أَغْضَبَكَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي ، فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ هُوَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں : سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ، حارث بن عبداللہ بن نوفل کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے ان صاحب کے بچوں عقبہ اور ولید اور ابومسلم کو جنم دیا پھر وہ خاتون مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں ، لوگوں نے ان کے ماں باپ کے بارے میں زیادہ باتیں کیں تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے علاوہ اور کوئی کافروں کی اولاد نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا کہ اہل مدینہ نے مجھے میرے ماں باپ کے حوالے سے اذیت پہنچائی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : جب میں ظہر کی نماز ادا کروں گا ، تو تم نے ایسی جگہ نماز ادا کرنی ہے جہاں میں دیکھ سکوں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا تم لوگوں کا نسب ہے ، اور میرا نسب نہیں ہے ۔ “ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اس شخص پر غضب ناک ہو جس نے آپ کو غضبناک کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میری چچازاد ہے ، کوئی بھی شخص اس کے ساتھ صرف بھلائی کی بات ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابوحسین نامی راوی عبداللہ بن ابوحسین ہے ، اور یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔