کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15402
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالُوا : قَدِمَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ مُهَاجِرَةً ، فَنَزَلَتْ دَارَ رَافِعِ بْنِ الْمُعَلَّى الزُّرَقِيِّ ، فَقَالَ لَهَا نِسْوَةٌ جَالِسِينَ إِلَيْهَا مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ : أَنْتِ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ الَّذِي قَالَ اللَّهُ : ( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ) يَعْنِي : مَا يُغْنِي عَنْكِ مُهَاجَرُكِ ؟ فَأَتَتْ دُرَّةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَتْ إِلَيْهِ مَا قُلْنَ لَهَا ، فَسَكَّنَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " اجْلِسِي " . ثُمَّ صَلَّى بِالنَّاسِ الظَّهْرَ ، وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ سَاعَةً ، وَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، مَالِي أُوذَى فِي أَهْلِي ، فَوَاللَّهِ إِنَّ شَفَاعَتِي لَتَنَالُ حَيَّ حَاءَ وَحَكَمٍ ، وَصُدَا ، وَسَلْهَبَ ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدہ درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ہجرت کر کے آئیں ، انہوں نے رافع بن معلیٰ زرقی کے محلے ( یا گھر ) میں رہائش اختیار کی ، بنوزریق سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین جو ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں ، انہوں نے ان سے کہا: آپ اس ابولہب کی صاحبزادی ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” ابولہب کے دونوں ہاتھ برباد ہو جائیں اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا تھا وہ اس کے کسی کام نہیں آیا“ ۔ ان کی مراد یہ تھی کہ آپ کا ہجرت کرنا آپ کے کس کام آئے گا ، تو سیدہ درہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی جو ان خواتین نے کہی تھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پرسکون ہونے کا کہا: اور فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی ، پھر آپ منبر پر گھڑی بھر کے لئے تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” کیا وجہ ہے کہ مجھے میرے اہل خانہ ( یعنی خاندان کے افراد ) کے حوالے سے اذیت پہنچائی جاتی ہے ، اللہ کی قسم ! میری شفاعت حاء اور حکم اور صدا قبیلے کے افراد کو بھی قیامت کے دن نصیب ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشیر دمشقی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15402
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (259/24)»
حدیث نمبر: 15403
وَعَنِ ابْنِ أَبِي الْحُسَيْنٍ قَالَ : كَانَتْ دُرَّةُ بِنْتُ أَبِي لَهَبٍ عِنْدَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عُقْبَةَ ، وَالْوَلِيدَ ، وَأَبَا مُسْلِمٍ ، ثُمَّ أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ ، فَأَكْثَرَ النَّاسُ فِي أَبَوَيْهَا ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَلَدَ الْكُفَّارُ غَيْرِي ؟ ! فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالَتْ : قَدْ آذَانِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي أَبَوَيَّ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا صَلَّيْتِ الظُّهْرَ فَصَلِّي حَيْثُ أَرَى " . فَصَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظَّهْرَ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْهَا ، فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلْكُمْ نَسَبٌ وَلَيْسَ لِي نَسَبٌ ؟ " . فَوَثَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : أَغْضَبَ اللَّهَ مَنْ أَغْضَبَكَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ بِنْتُ عَمِّي ، فَلَا يَقُلْ لَهَا أَحَدٌ إِلَّا خَيْرًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ هُوَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوحسین بیان کرتے ہیں : سیدہ درہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب ، حارث بن عبداللہ بن نوفل کی اہلیہ تھیں ، انہوں نے ان صاحب کے بچوں عقبہ اور ولید اور ابومسلم کو جنم دیا پھر وہ خاتون مدینہ منورہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں ، لوگوں نے ان کے ماں باپ کے بارے میں زیادہ باتیں کیں تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے علاوہ اور کوئی کافروں کی اولاد نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا کہ اہل مدینہ نے مجھے میرے ماں باپ کے حوالے سے اذیت پہنچائی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : جب میں ظہر کی نماز ادا کروں گا ، تو تم نے ایسی جگہ نماز ادا کرنی ہے جہاں میں دیکھ سکوں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور مڑ کر ان کی طرف دیکھا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! کیا تم لوگوں کا نسب ہے ، اور میرا نسب نہیں ہے ۔ “ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اس شخص پر غضب ناک ہو جس نے آپ کو غضبناک کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ میری چچازاد ہے ، کوئی بھی شخص اس کے ساتھ صرف بھلائی کی بات ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابن ابوحسین نامی راوی عبداللہ بن ابوحسین ہے ، اور یہ روایت مرسل ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15403
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل،
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24)»
حدیث نمبر: 15404
وَعَنْ دُرَّةَ ابْنَةِ أَبِي لَهَبٍ قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ائْتُونِي بِوَضُوءٍ " . قَالَتْ : فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ الْكُوزَ ، فَبَدَرْتُهَا فَأَخَذْتُهُ أَنَا ، فَتَوَضَّأَ فَرَفَعَ إِلَيَّ عَيْنَهُ أَوْ بَصَرَهُ قَالَ : " أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكِ " . ¤ قَالَتْ : فَأُتِيَ بِرَجُلٍ ، فَقَالَ : مَا أَنَا فَعَلْتُهُ إِنَّمَا قِيلَ لِي . ¤ قَالَتْ : وَكَانَ يَسْأَلُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ : مَنْ خَيْرُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : " أَفْقَهُمْ فِي دِينِ اللَّهِ ، وَأَوْصَلُهُمْ لِرَحِمِهِ " . وَذَكَرَ شَرِيكٌ شَيْئَيْنِ آخَرَيْنِ فَلَمْ أَحْفَظْهُمَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده درّہ رضی اللہ عنہا بنت ابولہب بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے آپ نے فرمایا : میرے پاس وضو کا پانی لے کے آؤ ، سیدہ درہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں اور عائشہ برتن کی طرف لپکیں اور میں ان سے پہلے برتن تک پہنچ گئی ، میں نے اسے لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، آپ نے اپنی نگاہ اٹھا کے میری طرف دیکھا اور فرمایا : ” تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں ۔ “ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : پھر ایک شخص کو لایا گیا تو اس نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا ، مجھے یہ بات کہی گئی تھی ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : اس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر موجود رہنے کے دوران آپ سے سوال کیا تھا ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو اللہ کے دین کی سب سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور رشتے داری کے حقوق کا سب سے زیادہ خیال رکھتا ہو ۔ “ اس کے بعد شریک نامی راوی نے دو اور چیزیں بھی ذکر کی تھیں جو مجھے یاد نہیں رہی ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (257/24) اخرجه احمد فى المسند 431/6)»