حدیث نمبر: 15312
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أُعْطِيتُ سَبْعًا لَمْ يُعْطَهَا نِسَاءُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كُنْتُ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيْهِ نَفْسًا ، وَأَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْهِ أَبًا ، وَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَتَزَوَّجْ بِكْرًا غَيْرِي ، وَكَانَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَنْزِلُ عَلَيْهِ بِالْوَحْيِ وَأَنَا مَعَهُ فِي لِحَافٍ ، وَلَمْ يُفْعَلْ ذَلِكَ بِغَيْرِي ، وَكَانَ لِي يَوْمَانِ وَلَيْلَتَانِ وَلِنِسَائِهِ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ : مَتْنٌ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے سات خصوصیات عطا کی گئی ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میں اپنی ذات کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب لوگوں میں زیادہ محبوب تھی اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی ، آپ نے میرے علاوہ اور کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ پر وحی لے کر نازل ہوتے تھے اور میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لحاف میں موجود ہوتی تھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام میرے علاوہ کسی اور زوجہ کے حوالے سے ایسا نہیں کرتے تھے اور میری باری کے دو دن اور دو راتیں ہوتی تھیں اور دیگر تمام ازواج کے لئے ایک دن اور ایک رات ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس میں ضعیف متن پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15312
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/23)»