مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبْكِي ، فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكِ ؟ " . قُلْتُ : سَبَّتْنِي فَاطِمَةُ ، فَدَعَا فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ، سَبَبْتِ عَائِشَةَ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَلَيْسَ تُحِبِّينَ مَنْ أُحِبُّ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " وَتُبْغِضِينَ مَنْ أُبْغِضَ ؟ " . قَالَتْ : بَلَى قَالَ : " فَإِنِّي أُحِبُّ عَائِشَةَ ; فَأَحِبِّيهَا " . قَالَتْ فَاطِمَةُ : لَا أَقُولُ لِعَائِشَةَ شَيْئًا يُؤْذِيهَا أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُجَالِدٌ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، میں رو رہی تھی ، آپ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہی ہو ؟ میں نے عرض کی : فاطمہ نے مجھے برا بھلا کہا: ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا : اے فاطمہ ! تم نے عائشہ کو برا کہا: ہے ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس سے محبت نہیں رکھتی جس سے میں محبت رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس سے بغض نہیں رکھتی جس سے میں بغض رکھتا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو میں عائشہ سے محبت رکھتا ہوں ، تم بھی اس سے محبت رکھو ، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کروں گی جو انہیں تکلیف دے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومجالد ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔