مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَقَدْ أُعْطِيتُ تِسْعًا مَا أُعْطِيَتْهُنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ : لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصُورَتِي فِي رَاحَتِهِ ، حَتَّى أُمِرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَزَوَّجَنِي ، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بِكْرًا ، وَمَا تَزَوَّجَ بِكْرًا غَيْرِي ، وَلَقَدْ قُبِضَ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِي ، وَلَقَدْ قَبَرْتُهُ فِي بَيْتِي ، وَلَقَدْ حَفَّتِ الْمَلَائِكَةُ بَيْتِي ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ وَهُوَ فِي أَهْلِهِ فَيَتَفَرَّقُونَ عَنْهُ ، وَإِنْ كَانَ الْوَحْيُ لَيَنْزِلُ عَلَيْهِ وَإِنِّي مَعَهُ فِي لِحَافِهِ ، وَإِنِّي لَابْنَةُ خَلِيفَتِهِ وَصَدِيقِهِ ، وَلَقَدْ نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ ، وَلَقَدْ خُلِّفْتُ طَيِّبَةً وَعِنْدَ طَيِّبٍ ، وَلَقَدْ وُعِدْتُ مَغْفِرَةً وَرِزْقًا كَرِيمًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبِي يَعْلَى مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے نو چیزیں ایسی عطا کی گئیں ہیں جو کسی اور خاتون کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، البتہ سیده مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا کا معاملہ مختلف ہے ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام اپنے ہاتھ میں میری تصویر لے کے آئے تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا: تھا کہ آپ میرے ساتھ شادی کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میرے ساتھ شادی کی تو میں کنواری تھی ، آپ نے میرے علاوہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کا سر میری گود میں تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میرے گھر میں بنی ہے ، میرے گھر کو فرشتوں نے ڈھانپ لیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی ، تو اگر آپ اس وقت اپنی بیوی کے پاس موجود ہوتے تھے تو فرشتے آپ کے پاس نہیں آتے تھے ، لیکن جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے لحاف میں موجود ہوتی تھی ، تو آپ پر وحی نازل ہو جاتی تھی اور میں آپ کے خلیفہ اور آپ کے صدیق کی بیٹی ہوں اور میری بے گناہی کے بارے میں آسمان سے حکم بھی نازل ہوا تھا ، میں پاکیزہ ہونے کے عالم میں پیدا ہوئی اور پاکیزہ شخص کے پاس رہی اور میرے ساتھ مغفرت اور معزز رزق کا وعدہ کیا گیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، صحیح میں اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ، اور امام ابویعلیٰ کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔