مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِيثِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ حَدَّ اللَّهُ الَّذِينَ شَتَمُوا عَائِشَةَ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ ، فَيَسْتَوْهِبُ رَبِّي الْمُهَاجِرِينَ مِنْهُمْ ، فَأَسْتَأْمِرُكِ يَا عَائِشَةُ " . فَسَمِعَتْ عَائِشَةُ الْكَلَامَ فَبَكَتْ وَهِيَ فِي الْبَيْتِ ، وَقَالَتْ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا ، لَسُرُورُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سُرُورِي ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا ، وَقَالَ : " ابْنَةُ أَبِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ أَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا الْحَدِيثَ طُرُقٌ. ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب قیامت کا دن ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے عائشہ پر الزام لگانے والوں پر حد لگاتے ہوئے اسّی اسّی کوڑے لگوائے گا ، ان میں سے جو مہاجرین ہیں ان کے حوالے سے میرا پروردگار ہبہ کرنے کا کہے گا : اے عائشہ ! تو میں تم سے مرضی معلوم کروں گا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو وہ رونے لگیں ، حالانکہ وہ گھر میں موجود تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ! آپ کا خوش ہونا میرے نزدیک اپنی خوشی سے زیادہ پسندیدہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنستے ہوئے مسکرا دیے اور فرمایا : یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہارون ابوعلقمہ فروی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس سے پہلے اس روایت کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔