حدیث نمبر: 15303
وَعَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ : افْتَخَرْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَزَيْنَبُ ، فَقَالَتْ زَيْنَبُ : أَنَا الَّتِي زَوَّجَنِي اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ . وَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَنَا الَّتِي نَزَلَ عُذْرِي مِنَ السَّمَاءِ حِينَ حَمَلَنِي صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، فَقَالَتْ لَهَا زَيْنَبُ : أَيُّ شَيْءٍ قُلْتِ حِينَ رَكِبْتِ ؟ قَالَتْ : قُلْتُ : حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ . قَالَتْ : قُلْتِ كَلِمَةَ الْمُؤْمِنِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمُعَلَّى بْنُ عِرْفَانَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کیا ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے میری شادی کروائی ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں وہ ہوں کہ میرے بے گناہ ہونے کا حکم نازل ہوا ، جب صفوان بن معطل مجھے سوار کرا کے لائے تھے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان سے دریافت کیا : جب آپ سوار ہوئی تھیں تو آپ نے کیا جملہ پڑھا تھا ؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ پڑھا تھا : میرے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے وہ جملہ پڑھا تھا ، جو اہل ایمان کا کلمہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عرفان ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15303
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف