حدیث نمبر: 15302
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ لَمَّا نَزَلَ عُذْرُهَا قَبَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهَا ، فَقَالَتْ : أَلَا عَذَرْتَنِي ؟ فَقَالَ : أَيُّ سَمَاءٍ تُظِلُّنِي ، وَأَيُّ أَرْضٍ تُقِلُّنِي إِنْ قُلْتُ مَا لَا أَعْلَمُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب ان کے عذر کا حکم نازل ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے سر کو بوسہ دیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بے گناہ قرار دیا ؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کون سا آسمان مجھ پر سایہ کرے گا اور کون سی زمین میرا بوجھ اٹھائے گی ؟ اگر میں وہ کہوں جس کے بارے میں مجھے علم ہی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15302
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2665)»