حدیث نمبر: 15299
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا سَافَرَ سَافَرَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ ، وَيَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ ، فَسَافَرَ بِعَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - وَكَانَ لَهَا هَوْدَجٌ ، وَكَانَ الْهَوْدَجُ يَحْمِلُونَهُ وَيَضَعُونَهُ ، فَعَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لِلْحَاجَةِ فَتَبَاعَدَتْ ، فَلَمْ يَعْلَمْ بِهَا ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ قَدِ ارْتَحَلُوا ، وَجَاءَ الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْهَوْدَجَ ، فَحَمَلُوهُ وَلَا يَحْسَبُونَ إِلَّا أَنَّهَا فِيهِ ، فَسَارُوا ، وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ فَوَجَدَتْهُمْ قَدِ ارْتَحَلُوا ، فَجَلَسَتْ مَكَانَهَا فَاسْتَيْقَظَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، وَكَانَ لَا يَقَرَبُ النِّسَاءَ ، فَتَقَرَّبَ مِنْهَا ، وَكَانَ مَعَهُ بَعِيرٌ لَهُ ، فَلَمَّا رَآهَا حَمَلَهَا وَقَدْ كَانَ يَرَاهَا قَبْلَ الْحِجَابِ ، وَجَعَلَ يَقُودُ بِهَا الْبَعِيرَ حَتَّى أَتَوُا النَّاسَ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ [عَائِشَةُ ، وَأَكْثَرُوا الْقَوْلَ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَقَّ عَلَيْهِ حَتَّى اعْتَزَلَهَا ، وَاسْتَشَارَ فِيهَا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَغَيْرَهُ]. فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْهَا ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُحْدِثَ لَكَ فِيهَا ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : النِّسَاءُ كَثِيرٌ ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهَا ، وَخَرَجَتْ عَائِشَةُ لَيْلَةً تَمْشِي فِي نِسَاءٍ ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، فَقَالَتْ : بِئْسَ مَا قُلْتِ ! تَقُولِينَ هَذَا لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَتْ : إِنَّكَ لَا تَدْرِينَ مَا يَقُولُونَ ، وَأَخْبَرَتْهَا الْخَبَرَ ، فَسَقَطَتْ عَائِشَةُ مَغْشِيًّا عَلَيْهَا ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ بَعْدَهَا فِي سُورَةِ النُّورِ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) حَتَّى بَلَغَ ( وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ( وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ ) ، إِلَى قَوْلِهِ : ( وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ) . وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُعْطِي مِسْطَحًا وَيَبِرُّهُ وَيَصِلُهُ ، وَكَانَ مِمَّنْ أَكْثَرَ عَلَى عَائِشَةَ ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلَّا يُعْطِيَهُ شَيْئًا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ) فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْتِيَهَا وَيُبَشِّرَهَا ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرَهَا بِعُذْرِهَا ، وَبِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ . فَقَالَتْ : لَا بِحَمْدِكَ ، وَلَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تھے تو اپنے ساتھ اپنی کسی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے جاتے تھے ، آپ ان خواتین کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ سیدہ عائشہ بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ سفر پر لے گئے ، ان کا ایک مخصوص ہودج تھا ، اس ہودج کو لوگ اٹھاتے تھے اور اسے اونٹ پر رکھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے نکلیں ، وہ دور چلی گئیں ، ان کے بارے میں پتہ نہیں تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو وہ لوگ روانہ ہو گئے ، وہ لوگ جو ہودج کو اٹھاتے تھے وہ آئے ، انہوں نے ہودج کو اٹھایا ، ان کا یہ خیال تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اندر ہی موجود ہوں گی ، جب وہ لوگ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے لوگوں کو پایا کہ وہ روانہ ہو چکے ہیں ، تو وہ اسی جگہ پر بیٹھ گئیں ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جس کا نام صفوان بن معطل تھا ، وہ بیدار ہوا ، وہ خواتین کے قریب نہیں جا سکتا تھا ، اس کے ساتھ اس کا اونٹ بھی تھا ، جب اس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو انہیں اپنے اونٹ پر سوار کروایا ، وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ چکا تھا ، وہ اپنا اونٹ لے کر چلتا ہوا لوگوں کے پاس اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، لوگوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں اور بہت زیادہ باتیں کیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ پر یہ بات گراں گزری ، یہاں تک کہ آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لاتعلقی اختیار کی ، آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور دیگر حضرات سے مشورہ لیا تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں رہنے دیں ، اللہ تعالیٰ آپ کے سامنے اس کا کوئی حکم نازل کر دے گا ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کہا: خواتین بہت سی ہیں ، ایک رات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خواتین کے ساتھ چلتی ہوئی جا رہی تھیں ، تو اسی دوران ام مسطح کا پاؤں پھسلا ، تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے بری بات کہی ہے ، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں یہ بات کہہ رہی ہیں ، ام مسطح نے کہا: آپ نہیں جانتی لوگ کیا کہہ رہے ہیں ، پھر ام مسطح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ساری صورت حال بتائی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بے ہوش ہو کے گر گئیں ، پھر اس کے بعد قرآن میں سورت نور میں یہ آیات نازل ہوئیں : ” بیشک وہ لوگ ، جو تم میں سے ایک گروہ نے جھوٹا الزام لگایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور ان میں سے جس نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اس کے لیے بڑا عذاب ہے ۔ “ ( پھر آگے چل کر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تم میں سے فضیلت والے لوگ قسم نہ اٹھائیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “ اس سے پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مسطح کو رقم دیا کرتے تھے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے ، صلہ رحمی کرتے تھے اور یہ وہ شخص تھا جس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف زیادہ باتیں کی تھیں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ حلف اٹھایا کہ اب وہ اسے کچھ نہیں دیں گے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” کیا تم لوگ اس بات کو پسند نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کے انہیں خوشخبری سنائیں ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم نازل کیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نہ تو آپ کی تعریف کروں گی اور نہ آپ کے آقا کی تعریف کروں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلمہ بن کہیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15299
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جدا
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (123/23)»