حدیث نمبر: 15297
وَعَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ : قُلْتُ - يَعْنِي لِعَائِشَةَ - : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ - أَوْ يَا أُمَّتَاهُ - أَلَا تُحَدِّثِينِي كَيْفَ كَانَ - يَعْنِي أَمْرَ الْإِفْكِ - ؟ قَالَتْ : تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَخُوضُ الْمَطَرَ بِمَكَّةَ ، وَمَا عِنْدِي مَا يَرْغَبُ فِيهِ الرِّجَالُ ، وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ ، فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَزَوَّجَنِي أَلْقَى اللَّهُ عَلَيَّ الْحَيَاءَ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاجَرَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَاحْتُمِلْتُ إِلَيْهِ ، وَقَدْ جَاءَنِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسِيرًا ، فَخَرَجَ بِي مَعَهُ ، وَكُنْتُ خَفِيفَةً فِي حُدَّاجَةٍ لِي عَلَيْهَا سُتُورٌ ، ارْتَحَلُوا جَلَسْتُ عَلَيْهَا ، وَاحْتَمَلُوهَا وَأَنَا فِيهَا فَشَدُّوهَا عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ ، فَنَزَلُوا مَنْزِلًا وَخَرَجْتُ لِحَاجَتِي ، فَرَجَعْتُ وَقَدْ نَادَوْا بِالرَّحِيلِ ، فَنَزَلْتُ فِي الْحِدَاجَةِ وَقَدْ رَأَوْنِي حِينَ حَرَّكْتُ السُّتُورَ ، فَلَمَّا جَلَسْتُ فِيهَا ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى صَدْرِي ، فَإِذَا أَنَا قَدْ نَسِيتُ قِلَادَةً كَانَتْ مَعِي مِنْ جَزْعٍ ، فَخَرَجْتُ مُسْرِعَةً أَطْلُبُهَا ، فَرَجَعْتُ فَإِذَا الْقَوْمُ قَدْ سَارُوا ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى إِلَّا الْغُبَارَ مِنْ بَعِيدٍ ، فَإِذَا هُمْ قَدْ وَضَعُوا الْحِدَاجَةَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ ، لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنِّي فِيهَا لِمَا رَأَوْا مِنْ خِفَّتِي ، فَإِذَا رَجُلٌ آخِذٌ بِرَأْسِ بَعِيرِهِ ، فَقُلْتُ : مَنِ الرَّجُلُ ؟ فَقَالَ : صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ ، أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتِ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، قُلْتُ : أَدْرِ عَنِّي وَجْهَكَ ، وَضَعْ رِجْلَكَ عَلَى ذِرَاعِ بَعِيرِكَ . قَالَ : أَفْعَلُ وَنِعْمَةُ عَيْنٍ وَكَرَامَةٌ . قَالَتْ : فَأَدْرَكْتُ النَّاسَ حِينَ نَزَلُوا ، فَذَهَبَ فَوَضَعَنِي عِنْدَ الْحِدَاجَةِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ النَّاسُ وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ، قَالَتْ : وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ أَبَوَيَّ ، وَأَنْكَرْتُ لُطْفَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا أَعْلَمُ مَا قَدْ كَانَ قِيلَ ، حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ خَادِمِي أَوْ رَبِيبَتِي ، فَقَالَتْ كَذَا قَالَتْ ، وَقَالَ لِي رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ : مَا أَغْفَلَكِ ! فَأَخَذَتْنِي حُمَّى نَافِضٍ ، فَأَخَذَتْ أُمِّي كُلَّ ثَوْبٍ كَانَ فِي الْبَيْتِ فَأَلْقَتْهُ عَلَيَّ . فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : " مَا تَرَوْنَ ؟ " . فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَا أَكْثَرَ النِّسَاءَ ، وَتَقْدِرُ عَلَى الْبَدَلِ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَنْزِلُ عَلَيْكَ الْوَحْيُ ، وَأَمْرُنَا لِأَمْرِكَ تَبَعٌ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ : وَاللَّهِ لَيُبَيِّنَنَّهُ اللَّهُ لَكَ فَلَا تَعْجَلْ . ¤ قَالَتْ : وَقَدْ صَارَ وَجْهُ أَبِي كَأَنَّهُ صُبَّ عَلَيْهِ زِرْنِيخٌ . قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَى مَا بِي ، فَقَالَ : " مَا لِهَذِهِ ؟ " . قَالَتْ أُمِّي : مَا لِهَذِهِ مِمَّا قُلْتُمْ وَقِيلَ ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . قَالَتْ : فَزَادَنِي ذَلِكَ عَلَى مَا عِنْدِي . قَالَتْ : وَأَتَانِي ، فَقَالَ : " اتَّقِي اللَّهَ يَا عَائِشَةُ ، وَإِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ مِنْ هَذَا شَيْئًا فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ، وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ " . قَالَتْ : وَطَلَبْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ ، فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : غَيْرَ أَنِّي أَقُولُ كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ : فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ ، إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ . قَالَتْ : فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَصْحَابِهِ ، وَوَجْهُهُ كَأَنَّمَا ذِيبَ عَلَيْهِ الزِّرْنِيخُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ [الْوَحْيُ]، وَكَانَ إِذَا أُوحِيَ إِلَيْهِ لَمْ يَطُوفْ ، فَعَرِفَ أَصْحَابُهُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ ، وَجَعَلُوا يَنْظُرُونَ إِلَى وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَتَهَلَّلُ وَيُسْفِرُ ، فَلَمَّا قَضَى الْوَحْيُ قَالَ : " أَبْشِرْ يَا أَبَا بَكْرٍ ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَ ابْنَتِكَ وَبَرَاءَتَهَا ، فَانْطَلِقْ إِلَيْهَا فَبَشِّرْهَا " . قَالَتْ : وَقَرَأَ عَلَيْهِ مَا نَزَلَ فِيَّ . قَالَتْ : وَأَقْبَلَأَبُو بَكْرٍ مُسْرِعًا يَكَادُ أَنْ يَنْكَبَّ قَالَتْ : فَقُلْتُ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِ صَاحِبِكَ الَّذِي جِئْتَ مِنْ عِنْدِهِ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِي ، فَأَخَذَ بِكَفِّي ، فَانْتَزَعْتُ يَدِي مِنْهُ ، فَضَرَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : أَتَنْزَعِينَ كَفَّكِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ تَفْعَلِينَ هَذَا ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ : فَهَذَا كَانَ أَمْرِي . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، فِيهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

اسود بیان کرتے ہیں : میں نے اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے ام المؤمنین ! ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اے امی جان ! کیا آپ مجھے یہ نہیں بیان کریں گی کہ واقعہ افک کس طرح ہوا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : ” جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کی تھی اس وقت میں مکہ میں بارش میں گھوم پھر لیتی تھی کیونکہ میری عمر ابھی اتنی نہیں تھی کہ جس میں مردوں کو دلچسپی ہو ، میری عمر چھ سال تھی ، جب مجھے یہ بات پتہ چلی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر حیاء ڈال دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو میں آپ کی بیوی تھی ، مجھے سوار کروا کے آپ کے پاس لایا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نو سال کی تھی ( یعنی میری رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر کر رہے تھے آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے ، میں ہلکی پھلکی سی تھی ، میں ہودج میں رہتی تھی جس میں پردے پڑے ہوئے ہوتے تھے ، جب وہ لوگ روانہ ہونے لگتے تھے تو میں اس ہودج میں بیٹھ جاتی تھی ، وہ لوگ اسے اٹھا لیتے تھے ، میں اس کے اندر موجود ہوتی تھی وہ لوگ اس ہودج کو اونٹ کی پشت پر باندھ دیتے تھے ، ایک مرتبہ ان لوگوں نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، میں قضائے حاجت کے لئے گئی ، جب میں واپس آئی تو ان لوگوں نے یہ اعلان کیا کہ روانگی ہونے لگی ہے ، اسی دوران میں ہودج سے باہر آ گئی ، ان لوگوں نے مجھے پردوں کی حرکت کے وقت دیکھ لیا تھا ، جب میں اس میں بیٹھی تھی ، تو میں نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا تو مجھے پتہ چلا کہ میں اپنا ہار گم کر آئی ہوں ، میں تیزی سے اس کی تلاش میں نکلی ، جب میں واپس آئی تو لوگ جا چکے تھے اور مجھے دور سے صرف غبار نظر آ رہا تھا ، ان لوگوں نے ہودج کو اونٹ کی پشت پر رکھ دیا تھا ، ان کا یہ خیال تھا کہ میں اس کے اندر ہی موجود ہوں گی کیونکہ میں ہلکی پھلکی ہوتی تھی ، اسی دوران ایک شخص نظر آیا جس نے اپنے اونٹ کا سر پکڑا ہوا تھا ۔ میں نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے بتایا : صفوان بن معطل ، آپ اُم المؤمنین ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ، تو اس نے کہا: بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے ، میں نے کہا: تم اپنا چہرہ مجھ سے پھیر لو اور اپنے اونٹ کی ٹانگ کے پاس اپنی ٹانگ رکھو ، اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا اور یہ میرے لئے عزت افزائی کا باعث ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم لوگوں کے پاس اس وقت پہنچے جب وہ اگلا پڑاؤ کر چکے تھے ، میں گئی اور اپنے ہودج میں چلی گئی ، لوگوں نے مجھے دیکھ لیا ، مجھے نہیں معلوم کہ کیا صورت حال تھی ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : لیکن اس دوران مجھے اپنے والدین کا رویہ بدلا ہوا محسوس ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ بھی بدلا ہوا محسوس ہوا ، لیکن مجھے یہ پتہ نہیں چل سکا کہ کیا بات ہو رہی ہے ؟ یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری خادمہ میرے پاس آئی تو اس نے بتایا کہ اس اس طرح کی صورت حال ہے ، مہاجرین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھ سے کہا: آپ کتنی غافل ہیں ، پھر مجھے کپکپی والا بخار ہو گیا ، میری والدہ نے گھر میں موجود ہر کپڑا لے کر میرے اوپر ڈال دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا اور دریافت کیا : تم لوگوں کی کیا رائے ہے ، تو کسی نے یہ کہا: کہ عورتیں بہت سی ہیں اور آپ ان کے بدلے میں ( دوسری خاتون کے ساتھ شادی کرنے پر ) قدرت رکھتے ہیں ، کسی نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ، اور ہمارا حکم آپ کے حکم کا تابع ہے ، کسی نے کہا: اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اس بارے میں آپ کے سامنے حقیقت حال بیان کر دے گا ، تو آپ جلدی نہ کریں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس دوران میرے والد کا چہرہ یوں ہو چکا تھا جیسے اس پر زریخ انڈیل دیا گیا ہو ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے میری صورت حال ملاحظہ کی تو دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ میری والدہ نے کہا: یہ اس وجہ سے ہے جو آپ لوگ کہہ رہے ہیں اور جو بات کہی گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات نہیں کی اور مزید کچھ نہیں ارشاد فرمایا : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اس سے میری پریشانی میں اور بھی اضافہ ہو گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو ، اگر تم نے اس طرح کا کوئی ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ، بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے ، اور وہ برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جواب میں ، میں نے سیدنا یعقوب علیہ السلام کا نام لینا تھا لیکن اس وقت وہ مجھے یاد نہیں آیا تو میں نے یہ کہا: کہ میں تو صرف وہی بات کہ سکتی ہوں جو سیدنا یوسف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ” اب صبر کرنا ہی بہتر ہے ، اور تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس حوالے سے اللہ سے ہی مدد لی جا سکتی ہے ، میں اپنی پریشانی اور غم کی شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کرتا ہوں اور مجھے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے اس بات کا پتہ ہے جس کا تمہیں پتہ نہیں ہے ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان موجود تھے آپ کے چہرے کا یہ عالم تھا جیسے اس پر زریخ ڈال دیا گیا ہو یہاں تک کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوتی تھی ، تو پھر آپ کی طرف نظر نہیں کی جاتی تھی ، آپ کے اصحاب کو اندازہ ہو گیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے وہ آپ کے منتظر رہے ، آپ کا چہرہ روشن ہوتا جا رہا تھا ، جب وحی ختم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیٹی کے عذر اور اس کے بری ہونے کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ، تم اس کے پاس جاؤ اور اسے خوشخبری سناؤ ۔ “ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو میرے بارے میں نازل ہوئی تھیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تیزی سے چلتے ہوئے آئے ، قریب تھا کہ وہ گر جاتے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو میں نے کہا: اس بات پر میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں اور آپ کے آقا کی حمد بیان نہیں کرتی ، جن کے پاس سے آپ آئے ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ میرے سرہانے بیٹھ گئے ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ سے چھڑا لیا ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے مارا اور فرمایا : کیا تم اللہ کے رسول سے اپنا ہاتھ الگ کر رہی ہو ، کیا تم اللہ کے رسول کے ساتھ ایسا کر رہی ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے راوی سے فرمایا : تو یہ معاملہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15297
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (118/23)»