مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِيثِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَأَصَابَ عَائِشَةَ الْقُرْعَةُ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ ، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ انْطَلَقَتْ عَائِشَةُ لِحَاجَةٍ ، فَانْحَلَّتْ قِلَادَتُهَا ، فَذَهَبَتْ فِي طَلَبِهَا ، وَكَانَ مِسْطَحٌ يَتِيمًا لِأَبِي بَكْرٍ وَفِي عِيَالِهِ ، فَلَمَّا رَجَعَتْ عَائِشَةُ لَمْ تَرَ الْعَسْكَرَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ يَتَخَلَّفُ عَنِ النَّاسِ ، فَيُصِبُ الْقَدَحَ ، وَالْجِرَابَ ، وَالْإِدَاوَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : فَيَحْمِلُهُ - قَالَ : فَنَظَرَ فَإِذَا عَائِشَةُ فَغَطَّى - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَجْهَهُ عَنْهَا - ثُمَّ أَدْنَى بَعِيرَهُ مِنْهَا ، قَالَ : فَانْتَهَى إِلَى الْعَسْكَرِ ، فَقَالُوا قَوْلًا وَقَالُوا فِيهِ . قَالَ : ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ حَتَّى انْتَهَى ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ ، فَيَقُومُ عَلَى الْبَابِ ، فَيَقُولُ : " كَيْفَ تِيكُمْ ؟ " . حَتَّى جَاءَ يَوْمًا فَقَالَ : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عُذْرَكِ " . فَقَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ . قَالَ : وَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي ذَلِكَ عَشْرَ آيَاتٍ : ( إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ ) . قَالَ : فَحَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِسْطَحًا ، وَحَمْنَةَ ، وَحَسَّانَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کر لیتے تھے ، ایک مرتبہ غزوہ بنو مصطلق کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قرعہ نکل آیا ( اس سفر کے دوران ) نصف رات کے وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئیں ، اس دوران ان کا ہار گر گیا ۔ وہ اس کی تلاش میں چلی گئیں ، سیدنا مسطح رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زیر پرورش یتیم لڑکے تھے اور ان کے عیال میں سے تھے ، جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو انہوں نے وہاں لشکر کو نہیں دیکھا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ لوگوں سے پیچھے رہ جاتے تھے تاکہ اگر کوئی پیالہ یا مشکیزہ یا کوئی برتن رہ گیا ہو تو وہ اسے اٹھا لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جب انہوں نے دیکھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نظر آئیں ، انہوں نے اپنا چہرہ ان سے ڈھانپ لیا اور اپنا اونٹ ان کے سامنے کیا ، پھر وہ لشکر تک پہنچے تو لوگوں نے اس بارے میں باتیں کرنا شروع کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے اور دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور دریافت کرتے : تمہارا کیا حال ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن آپ تشریف لائے اور آپ نے فرمایا : ” اے عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کے بارے میں حکم نازل کر دیا ہے ۔ “ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ کی حمد ہے ، آپ کی تعریف نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں دس آیات نازل کیں : ” بے شک وہ لوگ جو تم میں سے ایک گروہ جھوٹا الزام لے کے آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسطح ، حمنہ اور حسان پر حد جاری کی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اور وہ حسن الحدیث ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔