مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِيثِ الْإِفْكِ باب: واقعہ افک کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ أُمُّ مِسْطَحٍ ، فَخَرَجْتُ لِحَاجَةٍ لِي إِلَى حُشٍّ ، فَوَطِئَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ عَلَى عَظْمٍ أَوْ شَوْكَةٍ ، فَقَالَتْ : تَعِسَ مِسْطَحٌ ، قُلْتُ : بِئْسَ مَا قُلْتِ تَسُبِّينَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : أَشْهَدُ أَنَّكِ مِنَ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ ، أَتَدْرِينَ مَا قَدْ طَارَ عَلَيْكِ ؟ فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ ، فَقَالَتْ : مَتَى عَهْدُكِ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ فِي أَزْوَاجِهِ مَا أَحَبَّ ، وَيُرْجِي مَنْ أَحَبَّ مِنْهُنَّ ؟ قَالَتْ : إِنَّهُ طَارَ عَلَيْكِ كَذَا وَكَذَا ، فَخَرَرْتُ مَغْشِيَّةً عَلَيَّ ، فَبَلَغَ أُمَّ رُومَانَ أُمِّي ، فَلَمَّا بَلَغَهَا أَنَّ عَائِشَةَ بَلَغَهَا الْأَمْرُ ، أَتَتْنِي فَحَمَلَتْنِي ، فَذَهَبَتْ بِي إِلَى بَيْتِهَا ، فَبَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ عَائِشَةَ قَدْ بَلَغَهَا الْخَبَرُ ، فَجَاءَ إِلَيْهَا ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا وَجَلَسَ عِنْدَهَا ، وَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ وَسَّعَ التَّوْبَةَ " . فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى مَا بِي ، فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَنْظُرَنَّ بِهَذِهِ الَّتِي قَدْ خَانَتْكَ وَفَضَحَتْنِي ؟ قَالَتْ : فَازْدَدْتُ شَرًّا إِلَى شَرٍّ . قَالَتْ : فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ ، فَقَالَ : " يَا عَلِيُّ مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ النِّسَاءَ ، وَلَكِنْ أَرْسِلْ إِلَى بَرِيرَةَ خَادِمِهَا فَسَلْهَا ، فَعَسَى أَنْ تَكُونَ قَدِ اطَّلَعَتْ عَلَى شَيْءٍ مِنْ أَمْرِهَا ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَرِيرَةَ ، فَجَاءَتْ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدِينَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنْ سَأَلْتُكِ عَنْ شَيْءٍ فَلَا تَكْتُمِينِي " . قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا شَيْءٌ تَسْأَلُنِي عَنْهُ إِلَّا أَخْبَرْتُكَ بِهِ ، وَلَا أَكْتُمُكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ شَيْئًا . قَالَ : " قَدْ كُنْتِ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَهَلْ رَأَيْتِ مِنْهَا شَيْئًا تَكْرَهِينَهُ " . قَالَتْ : لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالنُّبُوَّةِ ; مَا رَأَيْتُ مِنْهَا مُنْذُ كُنْتُ عِنْدَهَا إِلَّا خَلَّةً . قَالَ : " مَا هِيَ ؟ " . قَالَتْ : عَجَنْتُ عَجِينًا لِي ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : احْفَظِي الْعَجِينَ حَتَّى أَقْتَبِسَ نَارًا فَأَخْتَبِزَ ، فَقَامَتْ تُصَلِّي فَغَفَلَتْ عَنِ الْعَجِينِ ، فَجَاءَتِ الشَّاةُ فَأَكَلَتْهُ . فَأَرْسَلَ إِلَى أُسَامَةَ ، فَقَالَ : " يَا أُسَامَةُ ، مَا تَرَى فِي عَائِشَةَ ؟ " . قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " لَتُخْبِرَنِّي مَا تَرَى فِيهَا ؟ " . قَالَ : إِنِّي أَرَى أَنْ تَسْكُتَ عَنْهَا حَتَّى يُحْدِثَ اللَّهُ إِلَيْكَ فِيهَا . قَالَتْ : فَمَا كَانَ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَ الْوَحْيُ ، فَلَمَّا نَزَلَ جَعَلْنَا نَرَى فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ، ثُمَّ أَبْشِرِي يَا عَائِشَةُ ; قَدْ أَتَاكِ اللَّهُ بِعُذْرِكِ " . فَقُلْتُ : بِغَيْرِ حَمْدِكَ وَحَمْدِ صَاحِبِكَ . قَالَ : فَعِنْدَ ذَلِكَ تَكَلَّمْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ خَصِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں ام مسطح کے ہاں گئی اور پھر ان کے ساتھ قضائے حاجت کے لئے آبادی سے باہر گئی ، راستے میں کسی جگہ ام مسطح کا پاؤں کسی ہڈی پر یا شاید کسی کانٹے پر آیا تو انہوں نے کہا: مسطح برباد ہو جائے ، میں نے کہا: آپ نے بہت بری بات کہی ہے ، آپ اللہ کے رسول کے اصحاب میں سے ایک فرد کو برا کہہ رہی ہیں ، تو اس خاتون نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ آپ غافل مومن خواتین میں سے ایک ہیں ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں کہ آپ کے حوالے سے کیا بات پھیل چکی ہے ؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم ! جی نہیں ، تو اس نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کے ساتھ آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی ؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول اپنی ازواج کے بارے میں جو پسند کرتے ہیں اس طرح کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور جو طریقہ کار چاہتے ہیں وہ کر لیتے ہیں ، تو ام مسطح نے کہا: آپ کے حوالے سے یہ یہ بات پھیل چکی ہے ، تو میں گر گئی اور مجھ پر بے ہوشی طاری ہونے لگی ، جب میری والدہ سیدہ ام رومان رضی اللہ عنہا کو میری حالت کا پتہ چلا کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ کیا صورت حال ہے ، تو وہ میرے پاس آئیں اور مجھے سوار کروا کے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ بات پتہ چل گئی کہ عائشہ کو اس بات کا پتہ چل چکا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے ، تو میری طبیعت اور خراب ہو گئی ، ابھی یہی صورت حال تھی کہ اسی دوران سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آ گئے ، وہ اندر آئے انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اس کی طرف کیا دیکھ رہے ہیں ، اس نے آپ کے ساتھ خیانت کی ہے اور مجھے شرمندگی کا شکار کر دیا ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو میری طبیعت کی خرابی میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : اے علی ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مجھے یہ بتاؤ کہ عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے خواتین کے حوالے سے گنجائش عطا کی ہوئی ہے ، تاہم آپ ان کی خادمہ بریرہ سے پوچھیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ ان کے معاملے کے حوالے سے کسی چیز سے واقف ہو ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلوایا ، وہ آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتی ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اگر میں تم سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کروں تو تم نے مجھ سے چھپانی نہیں ہے ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کریں گے تو میں آپ کو بتا دوں گی اور اگر اللہ نے چاہا تو آپ سے کوئی چیز نہیں چھپاؤں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عائشہ کے پاس ہوتی ہو ، تم نے اس کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھی جو تمہیں ناگوار گزرتی ہو ؟ اس نے کہا: جی نہیں ، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو نبوت کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ! جب سے میں ان کے پاس ہوں ۔ میں نے ان کے حوالے سے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی ، صرف ایک چیز کا معاملہ مختلف ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ تو بریرہ نے بتایا کہ میں نے آٹا گوندھا تھا ۔ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ آٹے کا دھیان رکھیے گا ، میں آگ لے کے آتی ہوں اور روٹی پکاتی ہوں ، وہ کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگ گئی اور آٹے سے غافل ہو گئی اور بکری آئی اور اس نے آٹا کھا لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور فرمایا : اے اسامہ ! عائشہ کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ انہوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے بارے میں تمہاری جو رائے ہے ۔ اس کے بارے میں مجھے ضرور بتاؤ ، تو انہوں نے عرض کی : میرا یہ خیال ہے آپ ان کے حوالے سے خاموش رہیں ، جب تک اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں آپ کی طرف کوئی حکم نازل نہیں کر دیتا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وحی نازل ہونا شروع ہوئی ، جب آپ پر وحی نازل ہوتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے اس بات کا اندازہ ہو جاتا تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : عائشہ تمہارے لئے خوشخبری ہے ، تمہارے لئے خوشخبری ہے ، اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے عذر کا حکم نازل کر دیا ہے ، تو میں نے کہا: اس پر میں آپ کی تعریف نہیں کروں گی اور آپ کے ساتھی کی تعریف نہیں کروں گی ، راوی کہتے ہیں اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کلام کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیف ہے جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔