حدیث نمبر: 15266
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْعَى غَنَمًا فَاسْتَعْلَى الْغَنَمُ ، فَكَانَ فِي الْإِبِلِ هُوَ وَشَرِيكٌ لَهُ ، فَأَكْرَيَا أُخْتَ خَدِيجَةَ ، فَلَمَّا قَضَوُا السَّفَرَ بَقِيَ لَهُمْ عَلَيْهَا شَيْءٌ ، فَجَعَلَ شَرِيكُهُمْ يَأْتِيهَا فَيْتَقَاضَاهُمْ ، وَيَقُولُ لِمُحَمَّدٍ : انْطَلَقَ ، فَيَقُولُ : " اذْهَبْ أَنْتَ ; فَإِنِّي أَسْتَحِي " . فَقَالَتْ مَرَّةً وَأَتَاهُمْ : فَأَيْنَ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ : قَدْ قُلْتُ لَهُ ، فَزَعَمَ أَنَّهُ يَسْتَحِي ، فَقَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ حَيَاءً ، وَلَا أَعَفَّ ، وَلَا وَلَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ أُخْتِهَا خَدِيجَةَ ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ ، فَقَالَتْ : ائْتِ أَبِي فَاخْطُبْنِي ، قَالَ : " أَبُوكِ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ ، وَهُوَ لَا يَفْعَلُ " . قَالَتْ : انْطَلِقْ فَالْقَهُ فَكَلِّمْهُ فَأَنَا أَكْفِيكَ ، وَائْتِ عِنْدَ سُكْرِهِ ، فَفَعَلَ ، فَأَتَاهُ فَزَوَّجَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ ، فَقِيلَ لَهُ : أَحْسَنْتَ زَوَّجْتَ مُحَمَّدًا ، فَقَالَ : أَوَقَدْ فَعَلْتُ ؟ قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَامَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ مُحَمَّدًا قَالَتْ : بَلَى ، فَلَا تُسَفِّهَنَّ رَأْيَكَ ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا كَذَا ، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقِيَّتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ ، وَقَالَتْ : اشْتَرِ حُلَّةً وَاهْدِهَا لِي ، وَكَبْشًا ، وَكَذَا وَكَذَا ، فَفَعَلَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّ شَيْخَهُ أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى الصُّوفِيَّ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . وَقَالَ فِيهِ : قَالَتْ : "وَأْتِهِ غَيْرَ مُكْرَهٍ" . بَدَلَ : "سُكْرُهُ" . وَقَالَتْ فِي الْحُلَّةِ : "فَأَهْدِهَا إِلَيْهِ" . بَدَلَ : "إِلَيَّ" . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور صاحب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بکریاں چرایا کرتے تھے ، پھر آپ نے بکریاں چرانا چھوڑ کر اونٹوں کو چرانا شروع کر دیا ، آپ ایسا کرتے تھے آپ کے ساتھ آپ کا ایک شراکت دار ہوتا تھا ، پھر ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے لئے کام کرنا شروع کیا جب ان لوگوں نے اپنا تجارتی سفر مکمل کیا تو ان لوگوں کا اس خاتون کے ذمہ کچھ معاوضہ رہ گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شراکت دار ان لوگوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے تقاضا کرتا تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کرتا تھا کہ آ جائیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے : تم چلے جاؤ کیونکہ مجھے شرم آتی ہے ، ایک دن جب وہ شخص ان لوگوں کے پاس تقاضا کرنے کے لئے گیا تو اس خاتون نے کہا: محمد کہاں ہیں ، تو اس شخص نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا: تھا ( کہ آپ بھی چلیں ) لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے ، تو اس خاتون نے کہا: میں نے ان سے زیادہ شرم والا شخص کوئی نہیں دیکھا اور ان سے زیادہ بہتر طور پر نگرانی کرنے والا کوئی نہیں دیکھا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے دل میں یہ خیال آیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ان کے ساتھ شادی ہونی چاہیے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور یہ کہا: کہ آپ میرے والد کے پاس آئیں اور شادی کا پیغام دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ کے والد ایک ایسے شخص ہیں جن کے پاس مال بہت زیادہ ہے ، وہ ایسا نہیں کریں گے ، تو انہوں نے کہا: آپ جائیں ان سے ملاقات کریں اور ان سے بات چیت کریں ، میں سنبھال لوں گی ، آپ ان کے پاس اس وقت جائیں جب وہ نشے کے عالم میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے ، ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کروا دی ، جب صبح ہوئی اور وہ محفل میں بیٹھے تو ان سے کہا: گیا آپ نے اچھا کیا جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ شادی کروا دی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا میں نے ایسا کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں ، تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے محمد کے ساتھ شادی کروا دی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اب آپ اپنی رائے کو بے وقوفی ظاہر نہ کیجئے گا کیونکہ سیدنا محمد اس اس طرح کے آدمی ہیں ۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ صاحب راضی ہو گئے ، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور انہیں سونے یا چاندی کے دو اوقیہ بھیجے اور یہ کہا: کہ آپ اس کے ذریعے حلہ خریدیں اور اس حلے کو مجھے تحفے کے طور پر دیں اور ایک دنبہ خریدیں اور اس اس طرح کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسا ہی کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو ، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ، اور حلے کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں ۔ یعنی یہ نہیں کہا: کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15266
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2657) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1858)»