حدیث نمبر: 15267
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَوَّلُ شَيْءٍ عَلِمْتُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمْتُ مَكَّةَ فِي عُمُومَةٍ لِي ، فَأُرْشِدْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي زَمْزَمَ ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَابِ الصَّفَا أَبْيَضُ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ ، لَهُ وَفْرَةٌ جَعْدَةٌ إِلَى أَطْرَافِ أُذُنَيْهِ ، أَشَمُّ ، أَقْنَى الْأَنْفِ ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا ، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ ، كَثُّ اللِّحْيَةِ ، دَقِيقُ الْمَسْرُبَةِ ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ ، كَأَنَّهُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، يَمْشِي عَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَمَرَدُ ، حَسَنُ الْوَجْهِ ، مُرَاهِقٌ أَوْ مُحْتَلِمٌ ، تَقْفُوهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ سَتَرَتْ مَحَاسِنَهَا ، حَتَّى قَصَدَ نَحْوَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ، ثُمَّ اسْتَلَمَهُ الْغُلَامُ وَاسْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ، وَالْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ يَطُوفُونَ مَعَهُ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ ، وَقَامَ الْغُلَامُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا ، وَرَفَعَتْ يَدَيْهَا وَكَبَّرَتْ ، وَأَطَالَ الْقُنُوتَ ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ ، فَقَنَتَ وَهُوَ قَائِمٌ ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ مَعَهُ ، يَصْنَعَانِ مِثْلَ مَا يَصْنَعُ يَتْبَعَانِهِ . ¤ قَالَ : فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ ، فَأَنْكَرْنَا ، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ ، فَقُلْنَا : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ ، أَشَيْءٌ حَدَثَ ؟ قَالَ : أَجَلْ وَاللَّهِ ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قُلْنَا : لَا . قَالَ : هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْمَرْأَةُ : خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ ، أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا : يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَالْآخَرُ : بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے پہلے پتہ چلی وہ یہ ہے کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مکہ آیا تو ہماری رہنمائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی ، ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ زم زم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے ، ہم ان کے پاس موجود تھے اسی دوران صفا والے دروازے کی طرف سے ایک شخص آیا جس کا رنگ گورا تھا اس پر سرخی غالب تھی اس کے بال لمبے تھے اور گھنگھریالے تھے اور کانوں کے کونوں تک آ رہے تھے وہ اٹھی ہوئی ناک کا مالک شخص تھا اور اس کے سامنے کے دانت چمک دار تھے اس کی آنکھوں کے سفید اور سیاہ رنگ میں چمک تھی اس کی داڑھی گھنی تھی سینے پر پتلے سے بال تھے ہتھیلی اور پاؤں پُر گوشت تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چودھویں رات کا چاند ہو اس کے دائیں طرف ایک نوجوان چلتا ہوا آ رہا تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی تھی اس کا چہرہ بھی خوبصورت تھا اور وہ قریب البلوغ تھا ان کے پیچھے ایک خاتون آ رہی تھی جس نے اپنی خوبصورتی کو پردے میں رکھا ہوا تھا یہ لوگ حجر اسود کے پاس آئے انہوں نے اس کا استلام کیا پھر اس لڑکے نے استلام کیا پھر اس خاتون نے استلام کیا پھر انہوں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے وہ لڑکا اور خاتون ان صاحب کے ساتھ چکر لگا رہے تھے جب بھی وہ رکن کا استلام کرتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہتے تھے پھر جب انہوں نے رکن کا استلام کر لیا تو انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی لڑکا ان کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی خاتون ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اس نے بھی دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی یہ لوگ خاصی دیر کھڑے رہے پھر یہ رکوع میں گئے تو خاصی دیر رکوع میں رہے پھر انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور کھڑے رہے وہ سیدھے کھڑے رہے پھر وہ سجدے میں چلے گئے لڑکا اور عورت بھی ان کے ساتھ سجدے میں چلے گئے اور وہ اسی طرح کرتے رہے جس طرح وہ صاحب کرتے رہے وہ دونوں ان صاحب کی پیروی کر رہے تھے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو ہم نے اُس سے پہلے مکہ میں نہیں دیکھی تھی ، تو ہمیں یہ بڑی حیران کن لگی ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے کہا: اے ابوالفضل اس دین کے پہلے آپ کے درمیان مکہ میں موجود ہونے کے حوالے سے ہم واقف نہیں تھے کیا یہ کوئی نئی چیز آئی ہے تو انہوں نے بتایا اللہ کی قسم ! جی ہاں ! کیا تم انہیں نہیں جانتے ؟ ہم نے جواب دیا : جی نہیں ، انہوں نے کہا: یہ ہمارا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے ، اور وہ لڑکا علی بن ابوطالب ہے ، اور وہ عورت خدیجہ بنت خویلد ہے ، اللہ کی قسم ! اس دین کے مطابق روئے زمین پر اللہ کی عبادت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے ، صرف یہی تین افراد ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ہیں ، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10397)»