مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - باب: نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ مِنْ تَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ ، يَقُولُ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِتَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهَا : كُنْتُ مِنْ إِخْوَانِهِ ، فَكُنْتُ لَهُ خِدْنًا وَإِلْفًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَإِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى أُخْتِ خَدِيجَةَ ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى أَدَمٍ لَهَا ، فَنَادَتْنِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا ، وَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : أَمَا لِصَاحِبِكَ فِي تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ حَاجَةٌ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ : " بَلَى لَعَمْرِي " . فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : اغْدُ عَلَيْنَا إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا ، فَغَدَوْنَا عَلَيْهِمْ ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ ذَبَحُوا بَقَرَةً ، وَأَلْبَسُوا أَبَا خَدِيجَةَ حُلَّةً ، وَضَرَبُوا عَلَيْهِ قُبَّةً ، فَكَلَّمْتُ أَخَاهَا ، فَكَلَّمَ أَبَاهَا ، وَأَخْبَرْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَكَانِهِ ، وَأَنَّهُ سَأَلَ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ ، فَزَوَّجَهُ ، فَصَنَعُوا مِنَ الْبَقَرَةِ طَعَامًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، وَنَامَ أَبُوهَا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، فَقَالَ : مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ ، وَهَذِهِ الْقُبَّةُ ، وَهَذَا الطَّعَامُ ؟ ! قَالَتْ لَهُ ابْنَتُهُ الَّتِي كَلَّمَتْ عَمَّارًا : هَذِهِ الْحُلَّةُ كَسَاكَهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُكَ ، وَهَذِهِ بَقَرَةٌ أَهْدَاهَا لَكَ فَذَبَحْنَاهَا حِينَ زَوَّجْتَهُ خَدِيجَةَ ، فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ ، وَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْحِجْرَ ، وَجَاءَتْ بَنُو هَاشِمٍ حِينَ جَاءُوا ، فَقَالَ : أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ ؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ : إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ وَإِلَّا فَقَدْ زَوَّجْتُهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سنتے تھے تو یہ فرمایا کرتے تھے میں اس خاتون کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے بارے میں سب سے زیاہ علم رکھتا ہوں زمانہ جاہلیت میں ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریبی ساتھی تھا ، ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ہمارا گزر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے پاس سے ہوا جو اپنے چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھیں ، انہوں نے مجھے بلایا ، میں ان کے پاس چلا گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رک گئے ۔ اس خاتون نے کہا: کیا آپ کے ساتھی ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا : جی ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم ، میں اس خاتون کے پاس واپس گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات کے بارے میں اسے بتایا تو اس خاتون نے کہا: جب کل صبح ہو تو آپ ہمارے پاس آ جائیں ، ہم اگلے دن ان لوگوں کے پاس گئے تو ہم نے ان لوگوں کو پایا کہ ان لوگوں نے ایک گائے ذبح کی ہوئی تھی اور انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کو حلہ پہنایا ہوا تھا اور وہاں ایک قبہ لگایا ہوا تھا ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کی ، ان کے بھائی نے ان کے والد کے ساتھ بات چیت کی اور انہوں نے انہیں اللہ کے رسول اور ان کی حیثیت کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ کہا: کہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی شادی کر دیں ، تو ان لوگوں نے ان کی شادی کروا دی ، ان لوگوں نے گائے کے گوشت کا کھانا پکوایا ، ہم نے اسے کھایا ، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد سو گئے ، جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا : یہ حلہ کہاں سے آیا ہے ، اور یہ خیمہ کس لئے لگا ہے ، اور یہ کھانا کس وجہ سے ہے ؟ تو ان کی اس صاحبزادی نے جس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کی تھی ، انہیں بتایا کہ یہ حلہ آپ کو محمد بن عبداللہ نے پہنایا ہے جو آپ کے داماد ہیں اور یہ گائے انہوں نے آپ کو تحفے کے طور پر دی ہے ، جب آپ نے ان کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو اس وقت ہم نے انہیں قربان کیا تھا ، تو ان صاحب نے اس بات کا انکار کیا کہ انہوں نے یہ شادی کروائی ہے ، وہ وہاں سے نکل کر حطیم کے پاس آئے ، جب بنو ہاشم آئے تو ان صاحب نے دریافت کیا : تمہارا وہ فرد کہاں ہے جس کے بارے میں تم لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اس کی شادی کروائی ہے ، جب ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو ان صاحب نے کہا: اگر میں ان کی شادی کروا چکا ہوں تو ٹھیک ہے ، ورنہ میں اب ان کی شادی کروا دیتا ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے ۔