حدیث نمبر: 15264
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا ، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا ، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ : إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي ، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ . فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ ، فَخَلَّفَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً ، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةً ، فَقَالَ : مَا شَأْنِي ؟ ! مَا هَذَا ؟ ! قَالَتْ : زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ ؟ لَا لَعَمْرِي . قَالَتْ خَدِيجَةُ : أَلَا تَسْتَحْيِي ؟ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ ؟ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ ؟ ! فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانا اور مشروب تیار کیا انہوں نے اپنے والد اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی دعوت کی ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی یہاں تک کہ وہ لوگ مدہوش ہو گئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں تو ان کے والد نے ان کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروا دی پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی اور حلہ پہنے کے لئے دیا وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے تھے جب ان صاحب کا نشہ ختم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ انہیں خوشبو بھی لگی ہوئی تھی اور ان کے جسم پر حلہ بھی تھا ، انہوں نے کہا: کیا معاملہ ہے یہ کس وجہ سے ہے ، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کروا دی ہے ، تو ان کے والد نے کہا: کیا میں ابوطالب کے زیر پرورش یتیم لڑکے سے شادی کراؤں گا ؟ جی نہیں ! میری زندگی کی قسم ( ایسا نہیں ہو سکتا ) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو حیاء محسوس نہیں ہوتی ؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ قریش کے سامنے اپنے آپ کو بے وقوف قرار دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ آپ نشے کے عالم میں تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15264
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12838) اخرجه احمد فى المسند (2851)»