حدیث نمبر: 15237
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ : أَنَّ رَجُلًا أَقْبَلَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَحِقَهُ رَجُلَانِ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَاتَلَاهُ حَتَّى غَلَبَاهُ عَلَيْهَا ، فَدَفَعَاهَا فَوَقَعَتْ عَلَى صَخْرَةٍ ، فَأَسْقَطَتْ وَهُرِيقَتْ دَمًا ، فَذَهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ، فَجَاءَتْهُ نِسَاءُ بَنِي هَاشِمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِنَّ ، ثُمَّ جَاءَتْ بَعْدَ ذَلِكَ مُهَاجِرَةً ، فَلَمْ تَزَلْ وَجِعَةً حَتَّى مَاتَتْ مِنْ ذَلِكَ الْوَجَعِ ، فَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهَا شَهِيدَةٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو لے کے آ رہا تھا ، قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد پہنچے ۔ ان دونوں نے اس شخص کے ساتھ لڑائی کی یہاں تک کہ وہ اس شخص پر غالب آ گئے ، ان دونوں نے اس خاتون کو دھکا دیا وہ خاتون ایک پتھر پر گریں اور ان کا حمل ضائع ہو گیا اور خون بہنے لگا وہ لوگ انہیں ساتھ لے کر ابوسفیان کے پاس چلے لے گئے بنو ہاشم کی خواتین ابوسفیان کے پاس آئیں تو اس نے اس خاتون کو ان خواتین کے حوالے کر دیا پھر اس کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہجرت کر کے گئیں تھیں وہ اسی تکلیف میں مسلسل مبتلاء رہیں یہاں تک کہ اسی تکلیف کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا ، لوگ یہ سمجھتے تھے وہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15237
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (432/22)»