حدیث نمبر: 15236
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ إِلَى السَّرِيَّةِ الَّذِينَ أَصَابُوا مَالَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ : " إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنَّا قَدْ عَلِمْتُمْ [ وَقَدْ ] ، أَصَبْتُمْ لَهُ مَالًا ، فَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَرُدُّوا عَلَيْهِ الَّذِي لَهُ ؛ فَإِنَّا نُحِبُّ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَهُوَ فَيْءُ اللَّهِ الَّذِي أَفَاءَهُ عَلَيْكُمْ ; فَأَنْتُمْ أَحَقُّ بِهِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرُدُّهُ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَأْتِي الرَّجُلُ بِالشَّنَّةِ وَالْإِدَاوَةِ ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَهُمْ لَيَأْتِي بِالشِّظَاظِ ، حَتَّى إِذَا رَدُّوا عَلَيْهِ مَالَهُ بِأَسْرِهِ لَا يَفْقِدُ مِنْهُ شَيْئًا احْتَمَلَ إِلَى مَكَّةَ ، فَرَدَّ إِلَى كُلِّ ذِي مَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ مَالَهُ مِمَّنْ كَانَ أَبْضَعَ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، هَلْ بَقِيَ لِأَحَدٍ مِنْكُمْ عِنْدِي مَالٌ لَمْ يَأْخُذْهُ ؟ قَالُوا : لَا ، وَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ; فَقَدْ وَجَدْنَاكَ عَفِيفًا كَرِيمًا ، قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَاللَّهِ مَا مَنَعَنِي مِنَ الْإِسْلَامِ عِنْدَهُ إِلَّا تُخَوُّفُ أَنْ تَظُنُّوا أَنِّي إِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ آكُلَ أَمْوَالَكُمْ ، فَأَمَّا إِذْ أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكُمْ وَفَرَغْتُ مِنْهَا أَسْلَمْتُ . وَخَرَجَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم بھیجی جس نے سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا مال حاصل کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ شخص ہم میں سے ہے ، تم یہ بات جانتے ہو ، تم نے اس کا مال حاصل کیا ہے ، اگر تم اچھائی کرو اور اس کا مال اسے دے دو تو ہمیں یہ بات پسند ہو گی اور اگر تم یہ نہیں مانتے تو یہ اللہ تعالیٰ کا یہ مال فے ہو گا جو اس نے تمہیں فے کے طور پر عطا کیا ہے ، اور تم لوگ اس کے زیادہ حق دار ہو گے ، لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم اسے واپس کر دیتے ہیں ، تو لوگوں نے ان کا مال انہیں واپس کر دیا یہاں تک کہ کوئی شخص پرانا مشکیزہ لے کے آیا ، کوئی برتن لے کے آیا ، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص تو ” شظاظ“ ( نامی لکڑی ) بھی لے آیا یہاں تک کہ انہوں نے ان کا پورا مال انہیں واپس کر دیا ، اس میں کوئی بھی چیز کم نہیں تھی ، وہ اس سارے مال کو اٹھا کے مکہ گئے اور قریش سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کا مال اسے واپس کیا ، جس نے بھی انہیں سامان دیا تھا ، پھر انہوں نے فرمایا : اے قریش کے گروہ ! کیا تم میں سے کسی ایک کا میرے پاس کچھ مال باقی رہ گیا ہے جو اس نے وصول نہ کیا ہو ؟ لوگوں نے کہا: جی نہیں ! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے ، ہم نے آپ کو پاک دامن اور معزز شخص پایا ہے ، تو سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام قبول کرنے سے مجھے صرف اس بات نے روکے رکھا تھا کہ مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں تم لوگ یہ گمان نہ کرو کہ میں نے تمہارے مال کو ہتھیانے کا ارادہ کر لیا ہے ، اب جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں ادائیگی کروا دی ہے ، اور میں اس حوالے سے فارغ ہو گیا ہوں تو میں اسلام قبول کرتا ہوں ، پھر وہ وہاں سے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15236
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (430/2)»