حدیث نمبر: 15235
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ : حُدِّثْتُ عَنْ زَيْنَبَ أَنَّهَا قَالَتْ : بَيْنَمَا أَنَا أَتَجَهَّزُ بِمَكَّةَ لِلُّحُوقِ بِأَبِي لَقِيَتْنِي هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ ، فَقَالَتْ : يَا بِنْتَ عَمِّي ، إِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةً بِمَتَاعٍ مِمَّا يَرْفُقُ بِكِ فِي سَفَرِكِ ، أَوْ مَا تَبْلُغِينَ بِهِ إِلَى أَبِيكِ [ فَإِنَّ عِنْدِي فِي حَاجَتِكِ ] ، فَلَا تَضْطَنِّي مِنْهُ ; فَإِنَّهُ لَا يَدْخُلُ بَيْنَ النِّسَاءِ مَا [ يَدْخُلُ ] بَيْنَ الرِّجَالِ . قَالَتْ : وَوَاللَّهِ مَا أَرَاهَا قَالَتْ ذَلِكَ إِلَّا لِتَفْعَلَ ، وَلَكِنِّي خِفْتُهَا ، فَأَنْكَرْتُ أَنْ أَكُونَ أُرِيدُ ذَلِكَ ، فَتَجَهَّزْتُ ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ جِهَازِي قَدَّمَ إِلَيَّ حَمَوَيَّ كِنَانَةُ بْنُ الرَّبِيعِ أَخُو زَوْجِي بَعِيرًا فَرَكِبْتُهُ ، وَأَخَذَ قَوْسَهُ وَكِنَانَتَهُ ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا نَهَارًا يَقُودُ بِهَا ، وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، وَتَحَدَّثَتْ بِذَلِكَ رِجَالُ قُرَيْشٍ ، فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَدْرَكُوهَا بِذِي طُوًى ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَبَقَ إِلَيْهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ الزُّهْرِيُّ ، فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [ بِقَيْنَةِ بَنِي أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ نَافِعٍ الَّذِي بِإِفْرِيقِيَّةَ ] فَرَوَّعَهَا هَبَّارٌ [ بِالرُّمْحِ ] وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا ، وَكَانَتْ حَامِلًا - فِيمَا يَزْعُمُونَ - فَلَمَّا وَقَعَتْ أَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَنَزَلَ حَمُوهَا وَنَثَرَ كِنَانَتُهُ ، وَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَدْنُو مِنِّي رَجُلٌ إِلَّا وَضَعْتُ فِيهِ سَهْمًا ، فَتَكَرْكَرَ النَّاسُ عَنْهُ ، وَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ فِي جُلَّةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : أَيُّهَا الرَّجُلُ ، كُفَّ عَنَّا نَبْلَكَ حَتَّى نُكَلِّمَكَ ، فَكَفَّ ، وَأَقْبَلَ أَبُو سُفْيَانَ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ لَمْ تُصِبْ ، خَرَجْتَ بِامْرَأَةٍ عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ نَهَارًا ، وَقَدْ عَلِمْتَ مُصِيبَتَنَا وَنَكْبَتَنَا ، وَمَا دَخَلَ عَلَيْنَا مِنْ مُحَمَّدٍ ، فَيَظُنُّ النَّاسُ إِذَا خَرَجَتْ إِلَيْهِ ابْنَتُهُ عَلَانِيَةً مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانِينَا أَنَّ ذَلِكَ مِنْ ذُلٍّ أَصَابَنَا عَنْ مُصِيبَتِنَا الَّتِي كَانَتْ ، وَأَنَّ ذَلِكَ مِنَّا ضَعْفٌ وَوَهْنٌ ، وَإِنَّهُ لَعَمْرِي مَا لَنَا فِي حَبْسِهَا عَنْ أَبِيهَا حَاجَةً ، وَلَكِنْ أَرْجِعِ الْمَرْأَةَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ الصَّوْتُ وَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنَّا قَدْ رَدَدْنَاهَا ، فَسَلِّهَا سِرًّا وَأَلْحِقْهَا بِأَبِيهَا . قَالَ : فَفَعَلَ ، وَأَقَامَتْ لَيَالِيَ حَتَّى إِذَا هَدَأَ النَّاسُ ، خَرَجَ بِهَا لَيْلًا فَأَسْلَمَهَا إِلَى زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَصَاحِبِهِ ، فَقَدِمَا بِهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَقَامَ أَبُو الْعَاصِ بِمَكَّةَ ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ فَرَّقَ الْإِسْلَامُ بَيْنَهُمَا ، حَتَّى إِذَا كَانَ قُبَيْلَ الْفَتْحِ خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ تَاجِرًا إِلَى الشَّامِ ، وَكَانَ رَجُلًا مَأْمُونًا بِأَمْوَالٍ لَهُ ، وَأَمْوَالٍ لِرِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ أَبَضَعُوهَا مَعَهُ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ تِجَارَتِهِ أَقْبَلَ قَافِلًا ، فَلَقِيَتْهُ سَرِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَصَابُوا مَا مَعَهُ ، وَأَعْجَزَهُمْ هَارِبًا ، فَلَمَّا قَدِمَتِ السَّرِيَّةُ بِمَا أَصَابُوا مِنْ مَالِهِ أَقْبَلَ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ تَحْتَ اللَّيْلِ ، حَتَّى دَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَجَارَهَا فَأَجَارَتْهُ ، وَجَاءَ فِي طَلَبِ مَالِهِ . ¤ فَلَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ - كَمَا حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ - فَكَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ ، خَرَجَتْ زَيْنَبُ مِنْ صُفَّةِ النِّسَاءِ ، وَقَالَتْ : أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ . فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ ، أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، أَسْمِعْتُمْ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلِمْتُ بِشَيْءٍ كَانَ حَتَّى سَمِعْتُهُ ، إِنَّهُ لَيُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ أَدْنَاهُمْ " . ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَ عَلَى ابْنَتِهِ ، فَقَالَ : " يَا بُنَيَّةُ ، أَكْرِمِي مَثْوَاهُ ، وَلَا يَخْلُصُ إِلَيْكِ ، فَإِنَّكِ لَا تَحِلِّينَ لَهُ " . ¤
محمد محی الدین

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے یہ بات بتائی ہے کہ مجھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی ہے : وہ فرماتی ہیں : میں مکہ میں اپنے والد سے ملنے جانے کے لئے تیاری کر رہی تھی میری ملاقات ہند بنت عتبہ سے ہوئی اس نے کہا: اے میری چچا زاد اگر تمہیں سفر میں کسی سامان کی ضرورت ہو جس کے ذریعے تم اپنے والد تک پہنچ سکو تو تم مجھ سے اس بارے میں کوئی جھجک نہ کرنا کیونکہ خواتین کے درمیان آپس میں وہ اختلافات نہیں ہوتے جو مردوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! اس کے بارے میں میرا یہی خیال ہے کہ اس نے جو بات کہی تھی وہ اس نے پوری کرنی تھی لیکن مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ بھی تھا تو میں نے انکار کر دیا کہ میں ایسا کرنا چاہتی ہوں پھر میں نے سامان سفر تیار کیا جب میں تیاری کر کے فارغ ہو گئی تو میرا دیور کنانہ بن ربیع جو میرے شوہر کا بھائی ہے وہ میرے پاس اونٹ لے کے آیا میں اس پر سوار ہوئی اس نے کمان اور اپنے ترکش کو لیا پھر وہ مجھے لے کر دن کے وقت نکلا وہ اس جانور کو ہانک کر لے جا رہا تھا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنے ہودج میں موجود تھیں ۔ قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کو اس بارے میں پتہ چلا تو وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ ذی طوی کے مقام پر ان تک پہنچ گئے ان میں سے ہبار بن اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزی بن قصی اور نافع بن عبدالقیس زہری پہلے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تک پہنچ گئے سیدہ زینب بیٹھنا کے اونٹ کو ہبار نے نیزے کے ذریعے ڈرایا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ہودج میں سوار تھیں وہ حاملہ تھیں لوگوں کا یہ کہنا ہے جب وہ اس سے گریں تو ان کا حمل ضائع ہو گیا ان کا دیور سواری سے نیچے اترا ، اس نے ترکش میں تیر لگایا اور بولا: اللہ کی قسم جو بھی شخص قریب آنے کی کوشش کرے گا میں اسے تیر مار دوں گا ، لوگ اس سے پیچھے ہٹ گئے پھر ابوسفیان قریش کے اکابرین کے ہمراہ آیا اور بولا: اے شخص اپنے تیروں کو ہم سے روک لو ، ہم پہلے تمہارے ساتھ بات چیت کرتے ہیں ، اس نے ہاتھ روک لیا ، ابوسفیان آگے آیا ، وہ بھی آگے آیا ، ابوسفیان نے کہا: تم نے ٹھیک نہیں کیا ، تم اس خاتون کو لوگوں کے سامنے دن دہاڑے لے کر جا رہے ہو ، تم ہماری مصیبت اور پریشانی سے بھی واقف ہو جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے ہم پر داخل ہوئی ہے جب تم ان کی صاحبزادی کو کھلے عام ہمارے درمیان سے لے کر ان کے پاس جاؤ گے تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ ہمیں جو مصیبت لاحق تھی اس کی وجہ سے اس ذلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اور اس سے ہماری کمزوری ظاہر ہو گی مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ہمیں اس بارے میں کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس خاتون کو اس کے والد کے پاس جانے سے روکیں ، لیکن تم اس خاتون کو واپس لے جاؤ ، جب آوازیں آنا بند ہو جائیں گی ( یعنی لوگ سو جائیں گے ) اور لوگ یہ بات چیت کریں گے کہ ہم اس خاتون کو واپس لے آئے تھے تو تم پوشیدہ طور پر اس خاتون کو لے جانا اور اس کے والد تک پہنچا دینا ، تو ان صاحب نے ایسا ہی کیا ۔ کچھ دن گزرنے کے بعد جب لوگ پرسکون ہو گئے تو وہ اس خاتون کو رات کے وقت لے کے نکلے اور انہوں نے اس خاتون کو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا اور ان کے ساتھی کے سپرد کیا ، پھر وہ دونوں اس خاتون کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے اس دوران سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مکہ میں مقیم رہے اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہیں ، اسلام نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، یہاں تک کہ فتح سے کچھ پہلے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ شام کی طرف تجارت کا سامان لے کے نکلے ان کے پاس لوگوں کے کچھ اموال بھی تھے ، جس کا انہیں امین بنایا گیا تھا اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے اموال تھے جو ان لوگوں نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو دیے تھے ، جب سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ تجارت کر کے فارغ ہوئے اور وہ واپس آ رہے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جنگی مہم سے ان کا سامنا ہوا ، ان لوگوں نے ان کے پاس موجود سامان کو لے لیا ، جب وہ مہم حاصل کیے ہوئے مال کے ساتھ مدینہ منورہ آئی تو سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی رات کے وقت مدینہ منورہ آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے پناہ لی ، تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی ، وہ صاحب اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے آئے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز ادا کرنے کے لئے نکلے جیسا کہ یزید بن رمان نے یہ بات بیان کی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی ، اسی دوران سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خواتین کی صف سے باہر نکلیں اور بولیں : اے لوگو ! میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد سلام پھیرا تو آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اے لوگو ! کیا تم نے سنا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ! مجھے کسی چیز کا علم نہیں تھا ، یہاں تک کہ میں نے اب یہ بات سنی ہے ، مسلمانوں میں سے کوئی بھی فرد ان کی طرف سے پناہ دے سکتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی اور آپ اپنی صاحبزادی کے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا : اے میری بیٹی ! تم اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنا لیکن وہ تمہارے قریب نہ آنے پائے ، کیونکہ تم اس کے لئے حلال نہیں ہو ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15235
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (428/22)»