حدیث نمبر: 15234
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : فَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبَّادٍ : عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ [ لَهَا ] كَانَتْ خَدِيجَةُ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنَى عَلَيْهَا ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً ، وَقَالَ : " إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا مَالَهَا فَافْعَلُوا " . فَقَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَخَذَ عَلَيْهِ ، وَوَعَدَهُ ذَلِكَ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ ، إِذْ كَانَ فِيمَا شَرَطَ عَلَيْهِ فِي إِطْلَاقِهِ ، وَلَمْ يَظْهَرْ ذَلِكَ مِنْهُ وَلَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيُعْلَمُ ، إِلَّا أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ أَبُو الْعَاصِ إِلَى مَكَّةَ وَخَلَّى سَبِيلَهُ ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " كُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ ، فَتَصْحَبَانِهَا ، فَتَأْتِيَانِي بِهَا [ فَخَرَجَا مَكَانَهُمَا وَذَلِكَ بَعْدَ بَدْرٍ بِشَهْرٍ أَوْ شِبْهِهِ ] " . فَلَمَّا قَدِمَ أَبُو الْعَاصِ مَكَّةَ أَمَرَهَا بِاللُّحُوقِ بِأَبِيهَا ، فَخَرَجَتْ جَهْرَةً . ¤
محمد محی الدین

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد عباد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ” جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھجوایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کا فدیہ بھیجوایا انہوں نے اس فدیہ میں ایک ہار بھی بھجوایا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی رخصتی کے وقت انہیں دیا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہار ملاحظہ کیا تو آپ پر شدید رقت طاری ہو گئی آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو چھوڑ دو اور اس کا مال اسے واپس کر دو ، لوگوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! تو لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا مال واپس بھجوا دیا جو ان کا تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ سے یہ عہد لیا اور ان سے یہ وعدہ لیا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے دیں گے یہ شرط ان کو چھوڑنے کے وقت عائد کی گئی تھی لیکن یہ شرط نہ ان کی طرف سے ظاہر کی گئی نہ اللہ کے رسول کی طرف سے ظاہر کی گئی تاکہ لوگوں کو اس کا پتہ چلتا جب سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ وہاں سے نکل کر مکہ گئے اور انہیں چھوڑ دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اور انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا اور آپ نے فرمایا کہ تم دونوں بطن یا جج کے مقام پر رہنا زینب تمہارے پاس سے گزرے گی تم دونوں اس کے ساتھ رہنا اور اسے لے کر آ جانا یہ دونوں حضرات نکل کر اس جگہ گئے یہ غزوہ بدر سے ایک ماہ بعد یا اس کے آس پاس کی بات ہے پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ جب مکہ آئے تو انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے والد کے پاس چلی جائیں تو وہ کھلے عام وہاں سے نکلی تھیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15234
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (428/22)»