مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : كَانَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ خَتَنُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوْجَ ابْنَتِهِ ، وَكَانَ أَبُو الْعَاصِ مِنْ رِجَالِ مَكَّةَ الْمَعْدُودِينَ مَالًا وَأَمَانَةً ، وَكَانَ لِهَالَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ [ وَكَانَتْ ] خَدِيجَةُ خَالَتُهُ ، فَسَأَلَتْ خَدِيجَةُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُزَوِّجَهُ زَيْنَبَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُخَالِفُهَا ، وَكَانَ قَبْلَ أَنْ يُنْزَلَ عَلَيْهِ ، وَكَانَتْ تَعُدُّهُ بِمَنْزِلَةِ وَلَدِهَا ، فَلَمَّا أَكْرَمَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنُّبُوَّةِ ، وَآمَنَتْ بِهِ خَدِيجَةُ وَبَنَاتُهُ ، وَصَدَّقْنَهُ وَشَهِدْنَ أَنَّ مَا جَاءَ بِهِ هُوَ الْحَقُّ وَدِنَّ بِدِينِهِ ، وَثَبَتَ أَبُو الْعَاصِ عَلَى شِرْكِهِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ زَوَّجَ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ إِحْدَى ابْنَتَيْهِ : رُقَيَّةَ أَوْ أُمَّ كُلْثُومٍ ، فَلَمَّا بَادَئَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُرَيْشًا بِأَمْرِ اللَّهِ وَبَادَوْهُ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ قَدْ فَرَّغْتُمْ مُحَمَّدًا مِنْ هَمِّهِ ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ بَنَاتِهِ فَاشْغَلُوهُ بِهِنَّ " . فَمَشَوْا إِلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، فَقَالُوا : فَارِقْ صَاحِبَتَكَ ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ شِئْتَ . فَقَالَ : لَا هَاءَ اللَّهِ ، إِذًا لَا أُفَارِقُ صَاحِبَتِي ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِامْرَأَتِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ . فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنِي عَلَيْهِ فِي صِهْرِهِ خَيْرًا - فِيمَا بَلَغَنِي - . فَمَشَوْا إِلَى الْفَاسِقِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي لَهَبٍ ، فَقَالُوا : طَلِّقِ امْرَأَتَكَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، وَنَحْنُ نُزَوِّجُكَ أَيَّ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَقَالَ : إِنْ زَوَّجْتُمُونِي بِنْتَ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ [ أَوْ بِنْتَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ فَارَقْتُهَا ] فَزَوَّجَهُ بِنْتَ سَعِيدِ [ بْنِ الْعَاصِ ] . فَفَارَقَهَا ، وَلَمْ يَكُنْ عَدُوُّ اللَّهِ دَخَلَ بِهَا ، فَأَخْرَجَهَا اللَّهُ مِنْ يَدِهِ ; كَرَامَةً لَهَا وَهَوَانًا لَهُ ، وَخَلَفَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَلَيْهَا بَعْدَهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَحِلُّ بِمَكَّةَ وَلَا يُحْرِمُ مَغْلُوبًا عَلَى أَمْرِهِ ، وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ فَرَّقَ بَيْنَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَيْنَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ، إِلَّا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا ، فَأَقَامَتْ مَعَهُ عَلَى إِسْلَامِهَا وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ ، حَتَّى هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَهِيَ مُقِيمَةٌ مَعَهُ بِمَكَّةَ ، فَلَمَّا سَارَتْ قُرَيْشٌ إِلَى بَدْرٍ سَارَ مَعَهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ ، فَأُصِيبَ فِي الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ ، وَكَانَ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : غزوہ بدر کے قیدیوں میں سیدنا ابوالعاص بن ربیع بن عبدالعزی بن عبدشمس رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور آپ کی صاحبزادی کے شوہر تھے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا شمار مکہ کے گنے چنے افراد میں ہوتا تھا ، جو مال اور امانت کے اعتبار سے نمایاں حیثیت کے مالک تھے وہ سیدہ ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے تھے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی ان کے ساتھ کروا دیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اختلاف نہیں کیا تھا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے ، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ان صاحبزادے کو اپنی اولاد کی طرح سمجھتی تھیں جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور آپ کی صاحبزادیاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئیں اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کر دی اور اس بات کی گواہی دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز لے کے آئے ہیں وہ حق ہے ، اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اختیار کیا تو ابوالعاص اپنے شرک پر ثابت قدم رہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا یا شاید ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عقبہ بن ابولہب کے ساتھ کی تھی جب اللہ تعالیٰ کے معاملے میں قریش اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اختلافات ہوئے تو کسی نے کہا: تم لوگوں نے ( سیدنا ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پریشانی کے حوالے سے فارغ کیا ہوا ہے تم ان کی بیٹیوں کو واپس کر دو تاکہ وہ ان بیٹیوں میں مشغول ہو جائیں ، لوگ ابوالعاص بن ربیع کے پاس گئے اور ان سے کہا: تم اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کرو ، ہم تمہاری شادی جس کے ساتھ تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے تو ان صاحب نے کہا: جی نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا ، میں اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار نہیں کروں گا اگرچہ مجھے اپنی بیوی کے عوض میں قریش سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی عورت مل جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے ان کے داماد ہونے کے طور پر ان کی بھلائی کی تعریف کیا کرتے تھے ، لوگ فاسق عتبہ بن ابولہب کے پاس گئے اور یہ کہا: کہ تم سیدنا محمد کی صاحبزادی کو طلاق دے دو ہم تمہاری شادی قریش کی جس عورت سے تم چاہو گے اس سے کروا دیں گے ، اس نے کہا: اگر تم لوگ میری شادی ابان بن سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو ۔ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ، سعید بن العاص کی صاحبزادی سے کروا دو تو ٹھیک ہے ، پھر اس نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی اختیار کی ، ان لوگوں نے اس کی شادی سعید بن العاص کی بیٹی سے کروا دی لیکن اللہ کا وہ دشمن اس عورت کی رخصتی نہیں کروا سکا اور اللہ تعالیٰ نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو عزت حاصل تھی اس سے بھی نکال دیا اور اسے رسوائی کا شکار کر دیا اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس صاحبزادی کے ساتھ شادی کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ملکہ میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے ، اسلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے درمیان علیحدگی کروا دی تھی ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان دونوں کو باقاعدہ علیحدگی نہیں کروا سکے تھے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اسلام قبول کرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہی تھیں اور ان کے شوہر مشرک رہے تھے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مکہ میں اپنے شوہر کے پاس رہیں جب قریش بدر کی طرف گئے تو ان میں ابوالعاص بن ربیع بھی تھے بعد میں وہ بدر کے قیدیوں میں شامل ہوئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آئے ۔