مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَأْذَنَتْ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ زَوْجَهَا حِينَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُهَاجِرًا أَنْ تَذْهَبَ إِلَيْهِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ لَحِقَهَا بِالْمَدِينَةِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا : أَنْ خُذِي لِي مِنْ أَبِيكِ أَمَانًا ، فَأَطْلَعَتْ رَأْسَهَا مِنْ بَابِ حُجْرَتِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِالنَّاسِ الصُّبْحَ ، فَقَالَتْ : أَيُّهَا النَّاسُ ، أَنَا زَيْنَبُ ، وَإِنِّي قَدْ أَجَرْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي لَا عِلْمَ لِي بِهَذَا حَتَّى سَمِعْتُهُ الْآنَ ، وَإِنَّهُ يُجِيرُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص بن ربیع سے اجازت مانگی ، یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے تشریف لے جا چکے تھے ۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے یہ اجازت مانگی کہ وہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلی جائیں ، تو ان کے شوہر نے انہیں اجازت دے دی ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئیں پھر سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں اس خاتون کے پاس آئے اور انہیں یہ پیغام بھیجا کہ آپ اپنے والد سے میرے لئے امان حاصل کریں ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کے دروازے سے سر باہر نکالا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو صبح کی نماز پڑھا رہے تھے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے لوگو ! میں زینب ہوں اور میں نے ابوالعاص بن ربیع کو پناہ دے دی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا میں نے بھی ابھی یہ بات سنی ہے اور مسلمانوں کی طرف سے کوئی بھی شخص پناہ دے سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔