مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا . باب: نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ خَرَجَتِ ابْنَتُهُ زَيْنَبُ مِنْ مَكَّةَ مَعَ كِنَانَةَ - أَوِ ابْنِ كِنَانَةَ - فَخَرَجُوا فِي طَلَبِهَا ، فَأَدْرَكَهَا هَبَّارُ بْنُ الْأَسْوَدِ ، فَلَمْ يَزَلْ يَطْعَنُ بَعِيرَهَا بِرُمْحِهِ حَتَّى صَرَعَهَا ، وَأَلْقَتْ مَا فِي بَطْنِهَا ، فَتَحَمَّلَتْ ، وَاشْتَجَرَ فِيهَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو أُمَيَّةَ ، فَقَالَ بَنُو أُمَيَّةَ : نَحْنُ أَحَقُّ بِهَا ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ عَمِّهِمْ أَبِي الْعَاصِ ، وَكَانَتْ عِنْدَ هِنْدَ بِنْتِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَكَانَتْ تَقُولُ [ لِهَا هِنْدُ ] : هَذَا فِي سَبَبِ أَبِيكِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ : " أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَجِيءَ بِزَيْنَبَ ؟ " . قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَخُذْ خَاتَمِي فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ " . فَانْطَلَقَ زَيْدٌ ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَلَطَّفُ فَلَقِيَ رَاعِيًا ، فَقَالَ : لِمَنْ تَرْعَى ؟ فَقَالَ : لِأَبِي الْعَاصِ ، فَقَالَ : لِمَنْ هَذِهِ الْغَنَمُ ؟ فَقَالَ : لِزَيْنَبَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ مَعَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ شَيْئًا تُعْطِيهَا إِيَّاهُ وَلَا تَذْكُرُهُ لِأَحَدٍ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَأَعْطَاهُ الْخَاتَمَ ، فَعَرَفَتْهُ ، فَقَالَتْ : مَنْ أَعْطَاكَ هَذَا ؟ قَالَ : رَجُلٌ ، قَالَتْ : فَأَيْنَ تَرَكْتَهُ ؟ قَالَ : بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَسَكَتَتْ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ خَرَجَتْ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا جَاءَتْهُ قَالَ لَهَا : ارْكَبِي بَيْنَ يَدَيَّ عَلَى بَعِيرِهِ . قَالَتْ : لَا ، وَلَكِنِ ارْكَبْ أَنْتَ بَيْنَ يَدَيَّ ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ وَرَاءَهُ ، حَتَّى أَتَتْ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " هِيَ خَيْرُ بَنَاتِي ، أُصِيبَتْ فِيَّ " . ¤ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عُرْوَةَ ، فَقَالَ : مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُهُ تَنْتَقِصُ حَقَّ فَاطِمَةَ ؟ ! فَقَالَ عُرْوَةُ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَأَنِّي أَنْتَقِصُ فَاطِمَةَ حَقًّا هُوَ لَهَا ، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ إِنِّي لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَبَدًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بَعْضَهُ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو آپ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کنانہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ابن کنانہ کے ہمراہ مکہ سے نکلیں وہ لوگ ان کی تلاش میں پیچھے آئے ہبار بن اسود ان صاحبزادی تک پہنچ گیا اور وہ مسلسل ان کے اونٹ کو نیزہ مارتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اس اونٹ کو گرا دیا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہو گیا اور ان کا خون بہنے لگا پھر انہیں سواری پر سوار کیا گیا ان کے بارے میں بنو ہاشم اور بنو امیہ کے درمیان اختلاف ہو گیا بنو امیہ کا یہ کہنا تھا کہ ہم اس خاتون کے زیادہ حق دار ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ خاتون بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں وہ خاتون ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کے پاس رہیں ہند نے اس خاتون سے کہا: یہ سب تمہارے والد کی وجہ سے ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کہا: تم جا کر زینب رضی اللہ عنہا کو لے نہیں آتے ؟ انہوں نے عرض کی ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ انگوٹھی لو اور یہ انگوٹھی اسے دے دینا سیدنا زید رضی اللہ عنہ چلے گئے ان کی ملاقات ایک چرواہے سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کس کے جانور چراتے ہو اس نے جواب دیا : ابوالعاص کے سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یہ بکریاں کس کی ہیں ، اس نے جواب دیا : زینب بنت محمد کی ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ کچھ دیر چلتے رہے پھر انہوں نے فرمایا : اگر میں تمہیں کوئی چیز دوں تو وہ تم سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دو گے تم اس کا تذکرہ کسی سے نہ کرنا ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس چرواہے کو وہ انگوٹھی دے دی وہ چرواہا گیا اس نے بکریاں اندر داخل کیں اور وہ انگوٹھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو دے دی ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے وہ انگوٹھی پہچان لی تو انہوں نے دریافت کیا : تمہیں یہ کس نے دی ہے ، اس چرواہے نے بتایا : ایک شخص نے دی ہے ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تم نے اسے کہاں چھوڑا ہے ، اس نے بتایا فلاں فلاں جگہ پر ، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا خاموش ہو گئیں جب رات ہوئی تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نکل کر سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ آگے سوار ہوں تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: جی نہیں بلکہ تم آگے بیٹھو ، سیدنا زید رضی اللہ عنہ سوار ہوئے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیچھے بیٹھ گئیں یہاں تک کہ وہ ( مدینہ منورہ ) آ گئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ بیٹیوں میں سب سے بہتر ہے ، جسے میری وجہ سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : اس بات کی اطلاع امام زین العابدین کو ملی تو وہ عروہ کے پاس گئے اور بولے : وہ حدیث کیا ہے جو تمہارے حوالے سے مجھ تک پہنچی ہے کہ تم اسے بیان کرتے ہوئے اور تم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق کو کم کرنا چاہتے ہو ؟ عروہ نے کہا: اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ مشرق اور مغرب کے درمیان جو کچھ بھی موجود ہے وہ مجھے مل جائے اور اس کے بدلے میں ، میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں سے کسی چیز میں کمی کروں ، تاہم آج کے بعد میں یہ حدیث کبھی بیان نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔