حدیث نمبر: 15230
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ : فَوُلِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ، ثُمَّ زَيْنَبُ ، وَكَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ ، فَوَلَدَتْ لَهُ عَلِيًّا وَأُمَامَةَ ، وَكَانَ عَلِيٌّ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي غَاضِرَ ، فَافْتَصَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبَوْهُ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكٌ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ شَارَكَنِي فِي شَيْءٍ فَأَنَا أَحَقُّ بِهِ ، وَأَيُّمَا كَافِرٌ شَارَكَ مُسْلِمًا فِي شَيْءٍ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ " . ¤ قَالَ الزُّبَيْرُ : وَحَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ قَالَ : تُوُفِّيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ ابْنُ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرْدَفَهُ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ الْفَتْحِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا ابوالعاص بن ربیع بن عبدشمس رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ان صاحب کے بیٹے علی اور صاحبزادی امامہ کو جنم دیا تھا ان کے صاحبزادے بنو غاضر میں دودھ پیتے بچے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا دودھ چھڑوا لیا تھا ان صاحبزادے کے والد ( یعنی سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ) اس وقت مشرک تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی بھی چیز میں میرا شراکت دار ہو تو میں اس چیز کا زیادہ حق دار ہوؤں گا اور جو کافر کسی چیز کے بارے میں کسی مسلمان کا شراکت دار ہو تو وہ مسلمان اس کافر سے زیادہ اس چیز کا حق دار ہو گا ۔ “ زبیر بیان کرتے ہیں : عمر بن ابوبکر مؤملی نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ سیدنا ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بھی صاحبزادے ہیں وہ قریب البلوغ تھے پھر ان کا انتقال ہوا فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عمر بن ابوبکر نامی راوی متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15230
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (424/22)»