مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ : أَنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - لَمَّا حَضَرَتْهَا الْوَفَاةُ أَمَرَتْ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَوَضَعَ لَهَا غُسْلًا ، فَاغْتَسَلَتْ وَتَطَهَّرَتْ ، وَدَعَتْ بِثِيَابِ أَكْفَانِهَا ، فَأُتِيَتْ بِثِيَابٍ غِلَاظٍ خُشْنٍ وَلَبِسَتْهَا ، وَمَسَّتْ مِنْ حَنُوطٍ ، ثُمَّ أَمَرَتْ عَلِيًّا أَنْ لَا تُكْشَفَ إِذَا قُبِضَتْ ، وَأَنْ تُدْرَجَ كَمَا هِيَ فِي ثِيَابِهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَكَتَبَ فِي أَطْرَافِ أَكْفَانِهِ : يَشْهَدُ كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ : أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكِ الْقِصَّةَ فَالْإِسْنَادُ مُنْقَطِعٌ . ¤عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی رکھا ، انہوں نے غسل کیا اور طہارت حاصل کی پھر انہوں نے کفن کے کپڑے منگوائے ، ان کے پاس موٹے کپڑے لائے گئے م وہ انہوں نے پہن لئے ، انہوں نے اس پر حنوط لگائی پھر انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جب ان کا انتقال ہو جائے تو ان کا کپڑا نہ ہٹایا جائے اور انہیں اسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا ، کیا آپ کو کسی کے بارے میں علم ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہو ؟ تو ان صاحب نے جواب دیا : جی ہاں ، کثیر بن عباس نے بھی ایسا ہی کیا تھا اور انہوں نے اپنے کفن کے کناروں پر یہ لکھوایا تھا کہ کثیر بن عباس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عبداللہ بن محمد نامی راوی نے اس واقعہ کا زمانہ نہیں پایا تو سند منقطع ہے ۔