مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
وَعَنْ أُمِّ سَلْمَى قَالَتْ : اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهَا ، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا ، فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْنَاهَا فِي شَكْوَاهَا تِلْكَ ، قَالَتْ : وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ ، فَقَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، اسْكُبِي لِي غُسْلًا ، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ أَعْطِينِي ثِيَابِيَ الْجُدُدَ ، فَأَعْطَيْتُهَا فَلَبِسَتْهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ ، فَفَعَلْتُ ، وَاضْطَجَعَتْ ، وَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ ، وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا أُمَّهْ ، إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ وَقَدْ تَطَهَّرْتُ ، فَلَا يَكْشِفْنِي أَحَدٌ . فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا ، قَالَتْ : فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤سیدہ ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جب اس بیماری میں مبتلا ہوئیں جس میں ان کا انتقال ہوا تھا ، تو میں ان کی تیمارداری کر رہی تھی ایک دن میں نے انہیں اچھی حالت میں دیکھا ، جب سے وہ بیمار ہوئی تھیں ، میں نے انہیں اس طرح کی حالت میں نہیں دیکھا تھا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم میرے لئے غسل کے لئے پانی تیار کرو ، میں نے ان کے لئے غسل کے لئے پانی تیار کیا ، تو انہوں نے اچھی طرح غسل کیا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم مجھے نئے کپڑے دو ، انہوں نے انہیں نئے کپڑے دیے ، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پہن لئے ، پھر انہوں نے فرمایا : تم میرے لئے گھر کے درمیان میں میرا بستر بچھا دو ، میں نے ایسا ہی کیا ، وہ لیٹ گئیں ۔ انہوں نے قبلہ کی طرف رخ کیا اور اپنا ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھا اور پھر یہ کہا: اب میرا انتقال ہونے لگا ہے ، میں نے طہارت حاصل کر لی ہے اب کوئی خاتون میرا کپڑا نہ ہٹائے ، پھر اسی جگہ پر ان کا انتقال ہوا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔