حدیث نمبر: 15219
وَعَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَوَّجَ ابْنَتَهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - وَأَمَرَهُ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَجِيئَهُ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى هَذَا فِي تَرْجَمَةِ أُمِّ أَيْمَنَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ مَا يُنَاسِبُهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے کی اور انہیں یہ حکم دیا کہ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس نہیں آ جاتے وہ اپنی بیوی کے پاس نہ جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے حالات میں ذکر کی گئی ہے اس سے پہلے یا اس کے بعد اس کو ذکر کرنے کی کوئی مناسب جگہ نہیں تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15219
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (91/25)»