مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي فَضْلِهَا وَتَزْوِيجِهَا بِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - باب: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان اور ان کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہونا
حدیث نمبر: 15218
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاطِمَةَ إِلَى عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلٍ - قَالَ عَطَاءٌ : مَا الْخَمِيلُ ؟ قَالَ : قَطِيفَةٌ - وَوِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَإِذْخِرٍ ، وَقِرْبَةٍ . كَانَا يَتَفَرَّشَانِ الْخَمِيلَ ، وَيَلْتَحِفَانِ بِنِصْفِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کی تو ان کے ہمراہ ایک خمیل بھیجا ۔ عطا کہتے ہیں : انہوں نے دریافت کیا : خمیل سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : چادر اور ایک چمڑے سے بنا ہوا تکیہ بھیجا جس کے اندر پتے اور اذخر بھرا ہوا تھا اور ایک مشکیزہ بھیجا ، انہوں نے چادر کو نیچے بچھا لیا اور اس کا نصف حصہ اپنے اوپر اوڑھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔