حدیث نمبر: 15217
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَيْضًا قَالَتْ : كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا أَصْبَحَتْ جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ الْبَابَ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ أُمُّ أَيْمَنَ فَفَتَحَتْ لَهُ الْبَابَ ، فَقَالَ لَهَا : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ادْعِي لِي أَخِي " . فَقَالَتْ : أَخُوكَ هُوَ - [ أَيْ كَلِمَةٌ يَمَانِيَّةٌ ] - وَتُنْكِحُهُ ابْنَتَكَ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ أَيْمَنَ ، ادْعِي لِي " . فَسَمِعَ النِّسَاءُ صَوْتَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَحَشْحَشْنَ ، فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةٍ ، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَدَعَا لَهُ ، ثُمَّ نَضَحَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : " ادْعُوا لِي فَاطِمَةَ " . فَجَاءَتْ وَهِيَ عَرِقَةٌ ، أَوْ حِزِقَةٌ مِنَ الْحَيَاءِ ، فَقَالَ : " اسْكُتِي ; فَقَدَ أَنَكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منقول ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تو اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دروازے پر دستک دی ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا اٹھ کر آپ کے پاس گئیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دروازہ کھولا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : اے ام ایمن ! میرے بھائی کو میرے پاس بلا کے لاؤ ، انہوں نے عرض کی : وہ آپ کے بھائی ہیں اور آپ نے اپنی صاحبزادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام ایمن ! اسے میرے پاس بلا کے لاؤ ، خواتین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن لی ، وہ ایک طرف ہو گئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کونے میں تشریف فرما ہوئے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا پھر آپ نے ان پر پانی چھڑکا ، پھر فرمایا : میرے پاس فاطمہ کو بلا کے لاؤ ، جب وہ آئیں تو وہ شرم کی وجہ سے دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خاموش ہو جاؤ ، میں نے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کی ہے جو میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15217
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (136/24)»