حدیث نمبر: 15216
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ : لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، لَمْ نَجِدْ فِي بَيْتِهِ إِلَّا رَمْلًا مَبْسُوطًا ، وَوِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ ، وَجَرَّةً ، وَكُوزًا ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : [ إِلَى عَلِيٍّ ] " لَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا - أَوْ قَالَ : لَا تَقْرَبَنَّ أَهْلَكَ - حَتَّى آتِيَكَ " . فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَثَمَّ أَخِي ؟ " . فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ - وَهِيَ أُمُّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَكَانَتْ حَبَشِيَّةً ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَالِحَةً - : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَخُوكَ وَزَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ ؟ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ ، وَآخَى بَيْنَ عَلِيٍّ وَنَفْسِهِ . قَالَ : " إِنَّ ذَلِكَ يَكُونُ يَا أُمَّ أَيْمَنَ " . ¤ قَالَتْ : فَدَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ ، ثُمَّ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَ عَلِيٍّ وَوَجْهَهُ ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ تَعْثُرُ فِي مِرْطِهَا مِنَ الْحَيَاءِ ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ لَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، ثُمَّ قَالَ لَهَا : " أَمَا إِنِّي لَمْ آلُكِ أَنْ أَنَكَحْتَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ " . ثُمَّ رَأَى سَوَادًا مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ - أَوْ مِنْ وَرَاءِ الْبَابِ - فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " . قَالَتْ : أَسْمَاءُ ، قَالَ : " أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " جِئْتُ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ مَعَ ابْنَتِهِ ] ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ ، إِنَّ الْفَتَاةَ لَيْلَةَ يُبْنَى بِهَا لَا بُدَّ لَهَا مِنِ امْرَأَةٍ تَكُونُ قَرِيبًا مِنْهَا ، إِنْ عَرَضَتْ لَهَا حَاجَةٌ أَفْضَتْ ذَلِكَ إِلَيْهَا . قَالَتْ : فَدَعَا لِي بِدُعَاءٍ إِنَّهُ لَأَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي . ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ : " دُونَكَ أَهْلَكَ " . ثُمَّ خَرَجَ فَوَلَّى ، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى تَوَارَى فِي حُجَرِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف کروائی گئی تو ہمیں گھر میں صرف ریت بچھانے کے لئے ملی اور ایک تکیہ تھا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مٹکا تھا اور ایک پیالہ تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ تم نے اس وقت تک کچھ نہیں کرنا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم نے اپنی بیوی کے قریب نہیں جانا جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : کیا یہاں میرا بھائی ہے ؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا جو سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کی والدہ ہیں ، انہوں نے کہا: وہ ایک حبشی خاتون تھی اور ایک نیک خاتون تھیں ، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ آپ کے بھائی ہیں ، اور آپ نے اپنی صاحبزادی کے ساتھ ان کی شادی کر دی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا تو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اپنے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا ، آپ نے فرمایا : اے ام ایمن ! ایسا ہو جاتا ہے ، سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا پھر جو اللہ کو منظور تھا وہ پڑھا ، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ اٹھ کر آپ کے پاس آئیں ، وہ شرم کی وجہ سے اپنی چادر میں دہری ہو رہی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بھی پانی چھڑکا اور جو اللہ کو منظور تھا ، وہ پڑھا ، پھر آپ نے ان سے فرمایا : میں نے تمہارے بارے میں ، اس بارے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے کہ میں نے تمہاری شادی اپنے خاندان میں سے اپنے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد کے ساتھ کی ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کے پیچھے کسی کو ملاحظہ کیا تو دریافت کیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اسماء ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اسماء بنت عمیس ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہاں اس لئے آئی ہو تاکہ اللہ کے رسول کی صاحبزادی کے ساتھ رہو ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے اور اس کی رخصتی ہوتی ہے ، تو اس کے ساتھ کوئی عورت اس کے قریب ہونی چاہیے تاکہ اسے کوئی ضرورت پیش آئے تو وہ اس کو پورا کر سکے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دعا دی ، جو میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل وثوق عمل ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم اپنی بیوی کو ساتھ لو ، پھر آپ تشریف لے گئے اور مسلسل ان دونوں کے لئے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپ اپنے حجرے میں داخل ہو گئے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 15216
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/24)»